حیدر آباد میں سیدنا فاروق اعظم کی گستاخی فرقہ واریت کی سازش ہے، قاری عثمان

 جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے حیدرآباد میں خلیفہ راشد حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ کی شان میں گستاخی کے مبینہ واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ خلیفہ دوم، مراد رسول ﷺ سیدنا عمر فاروقؓ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں۔

ملک کو انارکی اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں جلیل القدر صحابی کی سرعام گستاخی سے عالم اسلام کو کیا پیغام جائے گا؟ ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور حالات خراب ہونے سے پہلے حضرت عمر فاروق ؓ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو فوری گرفتار کرے۔

یہ بھی پڑھیں:

مندر سے پرساد کھانے پر انتہا پسند ہندوؤں نے معذور مسلمان کو مار مار کر قتل کر دیا

اپنے بیان میں قاری عثمان نے کہا کہ خلیفہ دوم، مراد رسول ﷺ سیدنا عمر فاروقؓ نے عظیم الشان قربانی پیش کرکے اسلام کو قوت بخشی۔ صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کی بدولت دین ہم تک پہنچا۔ تمام صحابہ کرام ہمارے لیے مقدس ہیں، کسی کے مقدسات کی توہین انتہائی نا مناسب عمل ہے۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر فرقہ واریت کو ہوا دینے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں۔ گستاخی کے واقعات سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اشتعال انگیزی روکنے کے لیے موثر قانون سازی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آخر کون لوگ ہیں جو اتنی دیدہ دلیری سے امت کی پاکباز ہستیوں کو داغدار کررہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ قاری محمد عثمان نےکہا کہ ہماری جانیں ناموس صحابہؓ کے تحفظ لیے پیش ہیں، ہم عظمت صحابہؓ کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔