افغانیوں کے نام پر پختون کش آپریشن بند کر دیا جائے، قاری عثمان

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک انسانیت کی تذلیل ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کو روند رہے ہیں۔

شناختی کارڈ اور مہاجر کارڈ رکھنے والے شہریوں کی تذلیل، مکانات پر قبضہ اور رشوت خوری کا بازار گرم کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ غیر قانونی مقیم افغانیوں کو قانون کے مطابق اپنے ملک بھیجا جائے۔ ایک طرف فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں افغانی مسلمان بھائیوں کو بیدردی سے بے دخل کیا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کیلئے آئے ہوئے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ضرور کیا جائے مگر جیبیں بھرنے کیلئے ظلم کی انتہا ناقابل برداشت ہے۔ جو غیر قانونی مقیم ہیں اور ملکی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں، ان کو قانون کے مطابق متعلقہ ملک کے حکام سے رابطہ کر کے ان کے ملک بھیجا جائے۔

اسرائیلی خاتون رکن پارلیمان کا فلسطینیوں کیخلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستانی شہریت اور مہاجر کارڈ رکھتے ہیں ان کے شناختی کارڈ کینسل کرنے کا اختیار پولیس کو کس نے دیا ہے؟ مکانات پر قبضہ اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنا کس قانون کا حصہ ہے؟ 

قاری محمد عثمان نے کہا کہ افغان مہاجرین کے نام پر پاکستان بننے سے لیکر اب تک پاکستان میں مقیم لوگوں کو تختہ مشق بنانا شرمناک ہے۔ سازش کے تحت پختون شہریوں کو افغانی بناکر ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ہم اس آپریشن کو پختون کش سمجھتے ہیں اور اعلی عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔