پیوٹن نے غزہ کے اسرائیلی محاصرے کو نازی جرمنوں کے ہاتھوں روسی ناکابندی سے تشبیہ دیدی

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے غزہ کے اسرائیلی محاصرے کو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمن فوج کی جانب سے روسی شہر لینن گراڈ کے محاصرے سے تشبیہ دیتے ہوئے تنازع کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کے بائیس لاکھ لوگوں کا سخت محاصرہ ناقابل قبول ہے۔

عرب عوام میں اشتعال بڑھنے لگا، اردن کے ہزاروں شہریوں کا اسرائیلی سرحد کی طرف مارچ

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ان فلسطینی شہریوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو اسرائیلی فوج کے ظلم و ستم شکار ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں زمینی کارروائی شروع کرنے سے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوگا۔

پیوٹن کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے تمام شہریوں (جن کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے) کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر جنوب کی طرف جانے کا انتباہ کیا ہے اور ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر متوقع زمینی حملے کیلئے اپنے ٹینکوں اور توپخانے کو متحرک کر دیا ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال اس جنگ کے تمام فریقوں کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہوگا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

 روسی صدر نے جلد از جلد جنگ بندی کو یقینی بنانے اور قیام امن کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ روس اس معاملے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

Related Posts