حکومت کی لانگ مارچ کو ناکام بنانے کی کوشش، پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے

حکومت کی لانگ مارچ کو ناکام بنانے کی کوشش، پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے

لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت نے پیر کی رات گئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف اس کارروائی کا آغاز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے پارٹی اجلاس کے بعد ہوا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سابق وزیر اعظم عمران خان کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عوام احتیاط سے پانی کا استعمال کرے، 2025 تک ملک میں پانی کی شدید قلت ہوگی، شیری رحمان

اجلاس میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے وزیر داخلہ کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی ہدایت کر دی۔ پنجاب پولیس نے پیر کو رات گئے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جن میں سابق وزیرِ توانائی حماد اظہر، راجہ بشارت، یاسمین راشد، سابق معاونِ خصوصی عثمان ڈار اور دیگر پی ٹی آئی رہنما شامل ہیں۔

بعدازاں ایسی بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ راولپنڈی میں شیخ رشید احمد کی لال حویلی کی رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ فیاض الحسن چوہان اور اعجاز خان جازی کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔

گھر پر پولیس چھاپے پر حماد اظہر کی والدہ نے برہمی کا اظہار کیا۔ پنجاب کے علاوہ سندھ پولیس نے بھی تحریکِ انصاف کے اراکینِ اسمبلی اور رہنماؤں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا۔

تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی سیف الرحمان محسود کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔ رکنِ سندھ اسمبلی بلال غفار کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپہ مارا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے چھاپوں کی مذمت کی ہے۔

مزید برآں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب اور سندھ میں چھاپوں کے متعلق کہا کہ ن لیگ جب بھی اقتدار میں آتی ہے، ایسی ہی حرکتیں کرتی ہے۔ کریک ڈاؤن سے ن لیگ کا فاشسٹ چہرہ عیاں ہوگیا ہے۔ 

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں