کراچی میں گرفتار ہونے والی مبینہ کوکین ڈیلر انمول پنکی سے متعلق نئے انکشافات نے کیس کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
مختلف دعوؤں کے مطابق ملزمہ کی ایک پولیس افسر سے مبینہ دوسری شادی اور مالی لین دین کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جنہوں نے سیکیورٹی اور ادارہ جاتی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملزمہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک سرکاری اہلکار نے اس کے بھائی کو حراست میں لینے کے بعد اس پر دباؤ ڈالا اور مختلف اوقات میں بھاری رقوم وصول کرتا رہا۔ ان دعوؤں میں ماہانہ لاکھوں روپے کی ادائیگیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق ملزمہ کا پہلا شوہر ملائیشیا میں مقیم ہے، جبکہ اس کے ذریعے مبینہ طور پر منشیات کی تیاری اور سپلائی کا نیٹ ورک قائم ہوا۔ دعوؤں کے مطابق وہ خود بھی ایک منظم طریقے سے اس کاروبار میں سرگرم رہی اور مختلف ذرائع سے کسٹمرز تک رسائی حاصل کرتی رہی۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جبکہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ اس موقع پر عدالت میں اس کے رویے اور پیشی کے انداز پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
ملزمہ کے خلاف سندھ کنٹرول نارکوٹکس ایکٹ اور سندھ آرمز ایکٹ کے تحت دو مقدمات درج ہیں، جن میں غیر قانونی منشیات اور اسلحے کی برآمدگی شامل ہے۔
ابھی تک یہ تمام الزامات تفتیش اور عدالتی عمل کے مرحلے میں ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








