پلس مائنس

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریک پاکستان نے بالآخر مائنس ون فارمولے کو قبول کر لیا ہے کیونکہ اس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے الیکشن سے دستبرداری کے بعد ہفتہ کو پارٹی کے لیے نئے چیئرمین کا انتخاب کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان کو عمران خان نے ہی اس نشست کے لیے امیدوار نامزد کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا ہونے کی وجہ سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی کے رہنما، جو عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دے رہے تھے، پارٹی کے چیئرمین کی تبدیلی کے بعد کہیں نظر نہیں آئے۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ حکمت عملی کے باعث عمران خان نے خود کو الیکشن سے باہر کر لیا کیونکہ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان پارٹی کو بلے کو انتخابی نشان الاٹ نہ کرنے کا سوچ رہا تھا۔ بشریٰ بی بی اور عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد پارٹی کے اعلیٰ عہدے کا تنازعہ زور پکڑ گیا۔

آڈیو لیک سے خاندان میں اختلافات ظاہر ہوئے لیکن علیمہ خان نے خود ان کو دور کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے اعلان کیا ہے کہ وہ انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن منتقل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے پیش نظر الیکشن کمیشن کو درخواست دی جائے گی‘۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں مائنس ون فارمولہ کوئی نئی بات نہیں، ہم نے دیکھا ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی سربراہ اور سابق تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے ساتھ کیا ہوا۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی قیادت میں کیسی کارکردگی دکھائے گی کیونکہ الیکشن بھی سر پر ہیں اور پارٹی میں اتحاد اس وقت جب عمران خان جیل میں ہیں۔