دس سال سے پاکستان فارمیسی کونسل کا مستقل سیکرٹری غائب؟ فارماسیوٹیکل کے طلبہ کا مستقبل داؤ پر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان فارمیسی کونسل گزشتہ دس برسوں سے مستقل سیکرٹری کے بغیر کام کر رہی ہے جس کے باعث ملک میں انتظامی نظام اور فارماسیوٹیکل تعلیم کے مستقبل سے متعلق سنگین خدشات جنم لے چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی برسوں سے سیکرٹری کا عہدہ ایک گردشی کرسی بن کر رہ گیا ہے جہاں مختلف اضافی سیکرٹریز کو عارضی بنیادوں پر بار بار چارج دیا جاتا رہا ہے۔ اس طویل عرصے پر محیط انتظامی عدم استحکام کے باعث اب ملک بھر میں موجود 900 سے زائد فارمیسی کالجز اور 70 ہزار سے زیادہ طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارتِ صحت کے ماتحت کام کرنے والی پاکستان فارمیسی کونسل عملاً ایک انتظامی تجربہ گاہ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کسی بھی مستقل سیکرٹری کی تقرری عمل میں نہیں آ سکی جبکہ عارضی انتظامات کے تحت مختلف افسران کو بار بار اضافی چارج سونپا جاتا رہا ہے۔

اسی طرح کونسل میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر بھی تسلسل برقرار نہیں رہ سکا جہاں ایک ہی سال کے دوران تین مختلف افسران کو تعینات کیا گیا جس سے پالیسی سازی اور ادارہ جاتی فیصلوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر ڈریپ (DRAP) کے افسر ڈاکٹر اختر عباس کو کونسل کا چارج دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں حالانکہ انہیں اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت سیکرٹری کے عہدے سے ہٹایا جا چکا تھا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی وفاقی حکومت کو ہدایت دے چکی ہے کہ پاکستان فارمیسی کونسل کی قانون کے مطابق ازسرِنو تشکیل کی جائے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گزشتہ سال اگست میں کونسل کے خلاف موصول ہونے والی بدعنوانی کی شکایات پر باضابطہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

مستقل قیادت کی طویل غیر موجودگی نے فارماسیوٹیکل شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین اور متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو نہ صرف ریگولیٹری نگرانی متاثر ہو گی بلکہ پاکستان میں فارمیسی تعلیم کی ساکھ کو بھی طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Related Posts