پاکستان کی سی فوڈ برآمدات تاریخ میں پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے متجاوز

تازہ ترین

تازہ ترین

سی فوڈز، فائل فوٹو

وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مچھلی اور فشریز مصنوعات کی برآمدات ملکی تاریخ میں پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جسے انہوں نے بحری شعبے اور بلیو اکانومی کیلیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے رواں مالی سال کیلیے 50 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا تھا، جو مالی سال کے اختتام سے 46 روز قبل ہی حاصل کر لیا گیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو حکومتی اصلاحات، بہتر سہولت کاری اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔

جنید انوار چوہدری نے وزارتِ بحری امور، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیار میں بہتری، فشریز سیکٹر کی جدید خطوط پر ترقی اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے میرین فشریز بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان اور ان کی ٹیم کو ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرنے پر مبارکباد بھی دی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی مچھلی اور سی فوڈ کو پہلی بار روسی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور اب تک 16 پاکستانی کمپنیوں کو روس کو سی فوڈ برآمد کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق روسی مارکیٹ تک رسائی یوریشین اکنامک یونین کی دیگر منڈیوں تک رسائی کی راہ بھی ہموار کرے گی، جبکہ مستقبل میں سالانہ سی فوڈ برآمدات 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر تقریباً 30 کروڑ ڈالر آمدن متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی فوڈ کی ترسیل سمندری، فضائی اور زمینی راستوں سے کی جائے گی، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں بڑھتی طلب کے پیشِ نظر زمینی راہداریوں سے کم لاگت تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

Related Posts