مغربی دباؤ مسترد، پاکستان نے ایران کے متعلق اہم فیصلہ کرلیا

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

پاکستان نے بالآخر 15 سال بعد ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے متعلق بیرونی دباؤ کا تاثر ٹھکرا کر اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی بارڈر سے گوادر تک 81 کلومیٹرپائپ لائن بچھانے کی منظوری دے دی۔

نجی چینل کے ذرائع کے مطابق فیصلہ کابینہ کی توانائی کمیٹی نے کیا ہے، منظور شدہ منصوبے کے تحت ایرانی بارڈر سے گوادر تک پائپ لائن کی تعمیر پر 45 ارب روپے لاگت آئے گی۔

ذرائع نے بتایاکہ پائپ لائن بچھانے سے پاکستان 18 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے بچ جائے گا اور ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے 750 ملین کیوبک فٹ گیس انتہائی سستی ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے گیس خریدنے کے  نتیجے میں پاکستان کو سالانہ 5 ارب ڈالر سے زائد بچت ہوگی۔

ذرائع  کے مطابق ایران 18 ارب ڈالر جرمانے کا نوٹس واپس لے گا، پاکستان امریکا سے آئی پی منصوبے پر پابندیوں سے استثنیٰ بھی مانگے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران  ترکیہ، عراق اور آذربائیجان کےساتھ گیس کی خرید و فروخت کر رہا ہے جس پرپابندیاں لاگو نہیں۔

دوسری جانب اعلامیے کے مطابق نگران وزیر توانائی محمد علی کی زیر صدارت کابینہ توانائی کمیٹی اجلاس میں ایران سے گیس درآمد کے لیے ایران سرحد تک 80 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منطوری دی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر 80 کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا جائے گا، پائپ لائن گوادر سے ایران سرحد تک تعمیر ہوگی،  کابینہ کمیٹی نے وزیراعظم کی ستمبر2023 میں قائم وزارتی کمیٹی نے سفارشات کی منظوری دی۔