پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کھلبلی! سرمایہ کاروں کو اربوں روپے نقصان کا سامنا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتہ وار تعطیل کے بعد پیر کی صبح کاروباری سرگرمیاں کا دوبارہ آغاز ہوا تو مجموعی فضا بدستور منفی رہی اور اہم انڈیکسز میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں ہی دباؤ واضح نظر آیا۔

صبح 9 بج کر 50 منٹ تک کاروباری سرگرمی کافی بڑھ چکی تھی جب تقریباً 9 کروڑ 15 لاکھ شیئرز کا لین دین ہوا اور اس دوران 4.06 ارب روپے کی مالیت 40,739 ٹرانزیکشنز کے ذریعے ریکارڈ کی گئی تاہم مارکیٹ کا رجحان منفی رہا جہاں 565 کمپنیوں میں سے 274 کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ صرف 83 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا اور 208 کی صورتحال مستحکم رہی۔

اہم انڈیکسز میں بھی واضح گراوٹ دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 988 پوائنٹس کی کمی سے 172,950 کی سطح پر آ گیا۔شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں پر مشتمل کے ایم آئی 30 انڈیکس بھی 2,520 پوائنٹس گر کر 1.02 فیصد خسارے میں رہا۔

یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب عالمی سطح پر جیوپولیٹیکل کشیدگی میں اضافہ ہوا خاص طور پر اس خبر کے بعد کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی پرچم والا تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا ہے۔

اس واقعے نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایران اور امریکہ کے ممکنہ مذاکرات سے متعلق متضاد اطلاعات نے بھی غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا جس کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق اگر خلیجی خطے کی صورتحال واضح نہ ہوئی تو آئندہ دنوں میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے اور سرمایہ کار دفاعی حکمت عملی اپنائے رکھیں گے۔

Related Posts