پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کو بے نقاب کر دیا

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

عالمی عدالت انصاف میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف سماعت کے پانچویں روز آج پاکستان، نمیبیا، سلطنت عُمان سمیت دیگر ممالک نے دلائل دیے۔

پاکستان کے نگراں وزیر قانون و انصاف احمد عرفان اسلم نے عالمی عدالت میں پاکستان کا موقف عمدہ دلائل اور پوری جرات کے ساتھ پیش کیا۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دی جا چکی ہیں۔ 1960 میں الجیریا میں فرانس کی بستیاں ختم کی گئیں اور لاکھوں فرانسیسی آباد کاروں کو وہاں سے نکالا گیا۔

احمد عرفان اسلم نے اپنے دلائل میں کہاکہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تعصب کا ارتکاب کر رہا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے کہاکہ بیت المقدس کا شہر تینوں ابراہامی مذہب کے لیے مقدس ہے اور تینوں مذہب کے افراد کے شہر میں داخل کا تاریخی حق موجود ہے، لیکن اسرائیلی قبضے کے دوران عیسائیوں کو بھی بیت المقدس کے گرجا گھروں اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ معاملہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

احمد عرفان اسلم نے کہاکہ ان کا پانچواں اور آخری نکتہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل نکالا جائے، پاکستان اس حل کی حمایت کرتا ہے، 26 اکتوبر 2023 کو اس حوالے سے پاکستان نے جنرل اسمبلی کی قرار کی حمایت کی۔

نگراں وزیرِ قانون احمد عرفان نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ 2 ریاستی حل سے ہی یہ تنازع ختم ہوسکتا ہے، فلسطینی اور اسرائیلی ریاستوں کی موجودگی دونوں اکائیوں اور خطے کے امن کی ضمانت ہے، قبضہ غیر قانونی عمل ہے جس کے قانوںی نتائج کا سامنا اسرائیل کو کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل منظم طریقے سے فلسطین میں نسل کشی کررہا ہے، تمام ممالک اسرائیل کی نا انصافیوں کو مسترد کرتے ہیں، اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی اقوام متحدہ نے بھی مذمت کی ہے۔

نگراں وزیر قانون کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کا موقف واضح ہے، یو این چارٹر کے مطابق اسرائیل فلسطین سے اپنی فوج نکالے، اسرائیلی مظالم کے خلاف آئی سی جی میں یہ کارروائی امید کی کرن ہے، پاکستان نے ہمیشہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے معاملے کو اٹھایا۔