آج سے 38 برس قبل 10 اپریل 1988 کی صبح 9 بج کر 50 منٹ پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں زندگی معمول کے مطابق تھی اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر معمول کی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔آگ کی بارش سے 103افراد جاں بحق جبکہ 1500زخمی ہوئے تاہم واقعے کی رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔
جب ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں تیسرا پیریڈ جاری تھا، اسکولوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق تھیں اور دکاندار اپنی دکانیں کھول کر روزمرہ سامان سجا رہے تھے، تب اچانک ایک ایسی قیامت ٹوٹی جس نے بے شمار شہریوں کی زندگی نیست و نابود کرکے رکھ دی۔
دراصل جڑواں شہروں کے سنگم پر واقع عسکری علاقے اوجھڑی کیمپ میں میزائلوں کے ذخیرے میں خوفناک دھماکہ ہوا اور اس حادثے نے لمحوں میں پورے شہر کو تباہ و برباد کردیا اور ہر طرف گونجتی ہوئی دھماکہ خیز آوازوں کے ساتھ فضا میں میزائل اور راکٹ بکھرنے لگے۔
دھماکے کے بعد دو گھنٹوں تک میزائل اور راکٹ بے قابو ہو کر مختلف سمتوں میں اڑتے اور گرتے رہے، جس کے نتیجے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے کئی علاقے شدید تباہی کا شکار ہوئے۔ سڑکوں پر چلتی گاڑیاں بھی اس آتشیں بارش کی زد میں آئیں اور ہر طرف افراتفری پھیل گئی۔
اوجھڑی کیمپ کے اسلحہ خانے میں لگی آگ مزید بھڑک اٹھی اور سیاہ دھوئیں کے بادلوں نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خوف اور بھگدڑ کے عالم میں لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر دوڑتے رہے، جہاں خواتین سر پر دوپٹہ لیے بگیر ننگے پاؤں اپنی زندگی بچانے کی کوشش میں دوڑتی نظر آئیں۔
طویل وقت تک فضا میں آگ اور بارود کی بارش جاری رہی۔ اس دوران متعدد اسکولوں اور کالجوں کی طالبات لاپتہ ہو گئیں جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دھماکوں کے تھم جانے کے باوجود شہر بھر میں تباہی اور ویرانی کے مناظر باقی رہ گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حادثے میں 103 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 1500 افراد زخمی ہوئے۔ یہ سانحہ اپنی شدت اور اثرات کے لحاظ سے خطے کا ایک بڑا انسانی المیہ قرار پایا۔
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کیں، تاہم اس کے باوجود آج تک قوم اس سانحے کے مکمل حقائق جاننے کی منتظر ہے اور کئی پہلو اب بھی پردۂ راز میں ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








