مفتی تقی عثمانی نے قادیانیوں کے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ غیر قانونی اور غیر شرعی قرار دیدیا

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

سابق جسٹس شریعہ اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ، ممتاز عالم دین، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا مفتی تقی عثمانی نے مبارک احمد ثانی قادیانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قانونی اور شرعی اعتبار سے غلط اور اس پر ہونے والی تنقید کو بجا اور درست قرار دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے 19 فروری کے فیصلے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک استفسار کے جواب میں مفتی تقی عثمانی نے اپنے تفصیلی جواب میں کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں ملزم کی سزا اور رہائی سے بحث کی گئی ہے، جبکہ دوسرے حصے میں مذہبی آزادی پر بات کی گئی ہے۔

[pdf-embedder url=”https://mmnews.tv/urdu/wp-content/uploads/2024/02/قادیانیوں-کے-بارے-میں-سپریم-کورٹ-کے-فیصلہ-سے-متعلق-سوال-کا-جواب۔-.pdf” title=”قادیانیوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے متعلق سوال کا جواب۔”]

مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ فیصلے کے پہلے حصے میں عدالت عظمیٰ نے ملزم کو کیس سے بری کرنے کیلئے جن بنیادوں کا سہارا لیا ہے وہ کمزور ہیں، عدالت نے پنجاب ہولی قرآن ایکٹ کے تحت ملزم کی سزا پر جرح کرتے ہوئے اسے اس ایکٹ میں 2021 ہونے والی ترمیم سے جوڑ کر بری کر دیا ہے۔

عدالت نے یہاں اسی ایکٹ کو جو 2011 میں منظور ہوا اور کیس کی بنیاد بھی اسی قانون پر ہے، کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور اس کی کوئی توجیہ فیصلے سے ظاہر نہیں ہوتی، بتایا گیا ہے کہ جرم 2019 میں ہوا اور قانون 2021 میں منظور ہوا، حالانکہ 2011 کے قانون کے تحت ملزم مستوجب سزا تھا۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ فیصلے کے دوسرے حصے میں مذہبی آزادی سے بحث کی ہے، اس حصے میں اگرچہ قادیانیوں کا ذکر نہیں ہے، مگر عدالتی فیصلہ کبھی غیر متعلقہ بحثوں پر مشتمل مضمون نگاری نہیں ہوتا، سیاق و سباق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بحث قادیانیوں سے متعلق ہی ہے اور لوگوں نے بھی اسے درست طور پر قادیانیوں سے متعلق سمجھا ہے۔

مفتی تقی عثمانی نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس دوسرے حصے میں مذہبی آزادی کی عمومی بحث کو قادیانیوں  کے باب میں زیر بحث لانا درست نہیں ہے، کیونکہ قادیانی 1993 کے عدالت عظمیٰ کے ظہیر الدین بنام سرکار مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ قادیانیت عیسائیت، ہندو مت وغیرہ کی طرح کوئی مذہب نہیں ہے، اس لیے قادیانیوں کو مذہبی آزادی کے قوانین کے تحت اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

مفتی تقی عثمانی نے قرار دیا ہے کہ عدالتی فیصلہ پڑھنے والوں کا یہ سمجھنے میں کوئی قصور نہیں کہ فیصلے میں قادیانیوں کو تحریف شدہ قرآن شائع کرنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دی گئی ہے اور اس کی وجہ سے جو انتشار ہوا وہ کچھ بعید نہیں تھا۔