ماجد ستی قتل کیس؛ دبئی میں چھپا ملزم آخر کیسے پکڑا گیا؟ جانیں اہم پیش رفت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ماجد ستی قتل کیس کے مرکزی ملزم ملک فرحان سلطان کو انٹرپول کی معاونت سے دبئی میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق واردات کے بعد ملزم دبئی فرار ہوگیا تھا جس کے خلاف پاکستانی حکام نے انٹرپول سے رابطہ کرکے ریڈ نوٹس جاری کروایا اور دبئی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔

حکام کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملک فرحان سلطان کو پاکستان منتقل کیا جائے گا جہاں اس سے تفصیلی تفتیش ہوگی اور قتل کے دیگر پہلوؤں سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں گی۔

دوسری جانب راولپنڈی کی عدالت نے کاروباری شخصیت ماجد ستی کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر، امیر حمزہ اور حیدر علی عرف علی جوگی کو عمر قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے شریک ملزم وسیم کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کردیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج افشاں اعجاز صوفی نے فیصلہ سنایا جس کے بعد فرخ کھوکھر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا، جبکہ دیگر سزا یافتہ ملزمان کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا تھا۔

عدالت نے سزا یافتہ ہر ملزم کو مقتول کے قانونی ورثا کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 بی کا فائدہ بھی دیا گیا جس کے تحت دورانِ حراست گزارا گیا عرصہ سزا میں شمار ہوگا۔

فرخ کھوکھر کے وکلا نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں۔

ماجد ستی کو کیسے قتل کیا گیا؟

مقدمے کے مطابق 23 اگست 2022 کو ماجد ستی راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے چچا اور دیگر افراد کے ساتھ موجود تھے۔ روانگی کے وقت انہیں قاسم شاہ کی کال موصول ہوئی جس کے بعد وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے۔

بعدازاں ایک موٹر سائیکل سوار نے گاڑی کو ٹکر ماری۔ قاسم شاہ اور ماجد ستی گاڑی سے باہر نکلے تو موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ماجد کو نام لے کر تین گولیاں مار دیں۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

مقتول کے چچا حاجی محمد ارشد محمود نے مقدمے میں دعویٰ کیا تھا کہ ماجد نے قتل سے قبل بتایا تھا کہ کچھ لوگ اس کا تعاقب کر رہے ہیں اور انہیں خدشہ تھا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔

مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل فخر حیات اعوان کے مطابق تقریباً چار سال جاری رہنے والے ٹرائل میں 27 گواہ پیش کیے گئے جبکہ فرانزک، جیو فرانزک، ٹریول ہسٹری اور ڈیجیٹل شواہد بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے۔

فرخ کھوکھر کا پس منظر

فرخ امتیاز کھوکھر کا تعلق راولپنڈی اور اسلام آباد کے کھوکھر خاندان سے ہے۔ وہ امتیاز عرف تاجی کھوکھر کے صاحبزادے اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی حاجی نواز کھوکھر کے بھتیجے ہیں۔

کھوکھر خاندان کئی دہائیوں تک پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا تاہم فرخ کھوکھر نے جولائی 2025 میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کی۔

فرخ کھوکھر کاروباری اور فلاحی سرگرمیوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی فعال رہے ہیں۔ ماضی میں ان کا نام مختلف مقدمات میں بھی سامنے آتا رہا ہے جبکہ جنوری 2023 میں ماجد ستی قتل کیس میں ان کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

14 جولائی 2026 کو عدالت نے اسی مقدمے میں فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید سنائی جبکہ ایک ملزم کو بری کردیا۔

Related Posts