لاہور قلندرز، ایچ بی ایل پی ایس ایل کے نویں ایڈیشن کے لیے تیار

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

لاہور: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل ) پاکستان کے کرکٹ کیلنڈر میں ایک ایسا شاندار ایونٹ ہے جس نے پچھلے آٹھ ایڈیشنز کے دوران عالمی سطح پر لاکھوں شائقین کے دلوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور اب سب پی ایس ایل کے نویں ایڈیشن کے انتظار میں ہیں۔

2016 میں ایچ بی ایل پی ایس ایل کے آغاز کے بعد سے لاہور قلندرز نے نہ صرف ایک متحرک ٹیم کے طور پر جگہ بنائی ہے بلکہ یہ زبردست سفر اتارچڑھاؤ سے گزرتا ہوا خود اپنے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے غیر متزلزل عزم کی منہ بولتی تصویر ہے۔

لاہور قلندرز نے تیزی سے شہرت حاصل کی ہے۔ اس کے پاس ُپرجوش مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس نے مقامی ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے میں انفرادیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی ٹیم کے طور پر تیار کیا جس نے نہ صرف میدان میں فطری صلاحیت دکھائی بلکہ دیکھنے والوں کو تفریح بھی فراہم کی ہے۔

لگاتار دو سال چیمپئن بننے والی لاہور قلندرز ابتدائی سیزنوں میں غیرمستقل مزاج پرفارمنس کا شکار رہی کیونکہ انہیں ایک ایسے کامبی نیشن کی تلاش میں جدوجہد کرنی پڑی جو انہیں ٹرافی جتوا سکے۔ شاندار انفرادی کارکردگی کے باوجود یہ ایک چیلنج ہی رہا کہ انفرادی کارکردگی کو اجتماعی کامیابی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

ثمین رانا کہتے ہیں “پہلے چار سال بہت زیادہ مایوسی اور تنقید کے ساتھ بہت مشکل تھے ایسے وقت بھی آئے جب کوئی خود پر شک کرنے لگتا تھا، لیکن ہمارے لیے یہ ضروری تھا کہ ہم اپنی غلطیوں سے ان تجربات سے سیکھیں اور اس نے ہمیں بعد کے مراحل میں بہتری لانے میں مدد کی۔”

ثمین رانا لاہور قلندرز کے سی او او اور ٹیم منیجر ہیں۔ وہ اپنے بھائی عاطف رانا کے ساتھ فرنچائز کے شریک مالک بھی ہیں جو سی ای او کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ان ابتدائی ناکامیوں سے بے خوف لاہور قلندرز کی انتظامیہ اپنے وژن میں پرعزم رہی اور چیلنجوں کو مواقعوں میں بدلنے کے لیے مستقل مزاجی سے کام کرتی رہی۔

لاہور قلندرز کے ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے غیر متزلزل عزم نے انہیں پاکستان کے شمال سے جنوب تک سفر کرتے دیکھا۔ یہی لگن اس کے لگاتار دو سال ایچ بی ایل پی ایس ایل کی ٹرافی جیتنے والی پہلی ٹیم بننے کی طرف کے سفر میں بہت اہم تھی۔

عالمی سطح پر سراہا جانے والا پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ڈی پی ) ٹیلنٹ اسکاؤٹنگ سے بھی آگے کا معاملہ ہے۔ یہ نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت اور پرورش کرتا ہے اور اس ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے جامع پروگرام بھی پیش کرتا ہے جس سے انہیں آسٹریلیا متحدہ عرب امارات زمبابوے اور نمیبیا جیسے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ لاہور قلندرز کا ہائی پرفارمنس سینٹر ایمرجنگ ٹیلنٹ کو ابھرنے کا بہترین ماحول پیش کرتا ہے۔

ثمین رانا کہتے ہیں۔ “پی ڈی پی میرے بھائی عاطف رانا کا وژن تھا، وہ نوجوانوں کو فرنچائز کے ساتھ جوڑنا چاہتے تھے”

ہم نے اس پروجیکٹ پر بہت تفصیلی بات چیت کی، وہ ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے بارے میں بہت ُپرجوش تھے اور یہ پروجیکٹ ان کے دل کے بہت قریب تھا، اور وہ وہی ہیں جو پی ڈی پی کی کامیابی کے کریڈٹ کے مستحق ہیں۔

کووڈ سے متاثرہ 2020 سیزن کے دوران اہم موڑ آیا جب سہیل اختر کی قیادت میں لاہور قلندرز پہلی بار ایچ بی ایل پی ایس ایل کے فائنل میں پہنچی۔ اگرچہ ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہی لیکن ٹیم کی متاثر کن کارکردگی نے ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دے دیا اور اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ کرکٹ میں کامیابی ایک ارتقائی عمل ہے۔

یہ مومینٹم لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے پہلے حصے میں بھی نظر آیا جبکہ دوسرا حصہ کووڈ کی وجہ سے متحدہ عرب امارات منتقل ہوگیا تھا ۔ پاکستان کے مرحلے کے دوران اپنی کامیابی کے باوجود لاہور قلندرز نے اپنے دس میں سے پانچ میچز جیتے اور چھ ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں پانچویں نمبر پر آ کر شائقین کو ایک بار پھر مایوس کیا۔

اس کے بعد لاہور قلندرز کے لیے حالات بدل گئے۔ 2022 کے ایڈیشن میں نئے کپتان شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں وہ ایک تبدیل شدہ ٹیم بن کر ابھری۔ راشد خان، فخر زمان، ڈیوڈ ویزے، ہیری بروک، زمان خان، حارث رؤف اور خود کپتان نے ٹیم کو لاہور میں اپنے پہلے ایچ بی ایل پی ایس ایل ٹائٹل تک پہنچایا۔

2023 میں لاہور قلندرز نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا جب یہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی ٹیم بن گئی جس نے کامیابی کے ساتھ اپنے ٹائٹل کا دفاع کیا، اور ملتان سلطانز کے خلاف فتح کے ساتھ اپنی دوسری ٹرافی حاصل کی۔شاہین کی آل راؤنڈ صلاحیتیں اور دباؤ میں زمان خان کا حوصلہ اس فتح میں اہم تھا۔
لاہور قلندرز اس سیزن کے لیے تیاری میں مصروف ہے ہو رہی ہے تاہم ورلڈ کلاس اسپنر راشد خان کی انجری کی وجہ سے غیر موجودگی لاہور قلندرز پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود ٹیم اچھی طرح سے تیار نظر آتی ہے ۔وہ نئے ٹیلنٹ سے مالا مال ہے اور مخالفین کو حیران کرنے کے لیے تیار ہے۔

“میں اس اسکواڈ سے بہت پر امید ہوں، جو بہت متوازن ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ دیگر ٹیمیں بھی مضبوط ہیں، لیکن ہم تیار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ قلندرز ٹائٹل کا دفاع کرنے اور تاریخ رقم کرنے کی بہت صلاحیت رکھتے ہیں،‘‘ ثمین رانا نے بتایا۔

لاہور قلندرز خوب سے خوب تر کی جستجو میں سفر جاری رکھے ہوئے ہے وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کی فیملی کے اہم رکن کے طور پر موجود ہے جو کرکٹ کے جذبے اور عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹیلنٹ کی نشوونما کے لیے ان کی وابستگی اور چیلنجوں پر قابو پانے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے منظر نامے میں ایک قوت کے طور پر لاہور قلندرز کی حیثیت کا اندازہ لگایا جانا چاہیے کیونکہ ابتدائی مشکلات پر قابو پاتے ہوئے اس نے لگاتار ٹائٹل جیتنے کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ ایک بہترین مثال ہے۔