اسرائیلی فوجیوں نے فرانسیسی رضاکار خواتین کو مورچے میں ہی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا

غزہ کے محاذ جنگ میں لڑنے والی اسرائیلی فوج کے بد ترین اخلاقی بحران سے دوچار ہونے کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو دنیا کے سامنے شدید رسوائی کا سامنا ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کے محاذ جنگ پر فرانس سے حماس کے خلاف لڑنے کے جذبے سے آنے والی دو لڑکیوں کو اسرائیلی فوج کے اہلکاروں نے عین دوران جنگ اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا، جس سے ایک لڑکی کو حمل بھی ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دوران جنگ محاذ جنگ پر ہی خواتین فوجیوں اور رضاکار لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، ذرائع ابلاغ کے مطابق اسی جاری جنگ کے دوران اس سے پہلے چین سے اسرائیلی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے آنے والی رضاکار لڑکی کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کا اسکینڈل اسرائیل کی رسوائی کا باعث بن چکا ہے۔

اور اب فرانس سے آنے والی دو لڑکیوں کے ساتھ دوران جنگ ریپ کا کیس اسرائیلی فوج کیلئے شرمناک اسکینڈل بن گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد غزہ جنگ میں حصہ لینے کے لیے دو نوجوان فرانسیسی خواتین اسرائیل آئی تھیں۔

کرینہ اور ماریہ نامی یہ خواتین اسرائیل کے ساتھ رضاکارانہ تعاون کے جذبے سے فرانس سے تل ابیب پہنچی تھیں، جہاں اسرائیلی فوج نے انہیں گیواتی بریگیڈ کے ساتھ غزہ کے محاذ پر بھیج دیا، تاہم کچھ دنوں بعد ہی اسرائیلی فوجیوں نے دونوں خواتین کو محاذ جنگ پر ہی اجتماعی طور پر جنسی ہوس کا نشانہ بنا دیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ریپ کے بعد اب کرینہ حاملہ ہو گئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میں اب اپنے شوہر مارٹن سے کیسے ملوں گی، جس نے مجھے اسرائیل آنے سے روکا تھا، میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ میں بحفاظت واپس آؤں گی۔ مگر یہاں میرا ریپ کرکے مجھے حاملہ کر دیا گیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق محاذ جنگ پر اسرائیلی فوجیوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی ان خواتین نے اسرائیلی فوج کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے، لیکن اسرائیلی عدالت ان کی کوئی شنوائی نہیں کر رہی۔