امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کی افواہوں نے عالمی سطح پر تناؤ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ایران میں جاری احتجاج کے پس منظر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جو 2025 کے آپریشن مڈنائیٹ ہیمر کی یاد تازہ کر رہی ہیں جب امریکا نے ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر محدود حملے کیے تھے۔
موجودہ صورتحال: احتجاج، دھمکیاں اور منصوبہ بندی
ایران میں جنوری 2026 کے آغاز سے بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں جو حکومت مخالف جذبات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ان مظاہروں پر تشدد کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے 2 جنوری کو ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران احتجاجیوں پر تشدد جاری رکھے تو امریکا لاکڈ اینڈ لوڈڈ ہے اور مداخلت کرے گا۔ نیویارک ٹائمز اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے جن میں نیوکلیئر سائٹس جیسے فورڈو پر دوبارہ حملے بھی شامل ہیں۔
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ دھمکیاں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہیں جو پیس تھرو اسٹرینتھ یعنی طاقت کے ذریعے امن پر مبنی ہے تاہم یہ صرف دھمکیاں نہیں بلکہ عملی تیاریوں کی بھی علامت ہیں۔ نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بڑے پیمانے پر ایئر اسٹرائیکس کی پلاننگ کر رہی ہے جس میں ایرانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ممکنہ حملے کی صورت میں عالمی صف بندی
اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو عالمی سطح پر صف بندی واضح طور پر تقسیم شدہ ہوگی۔ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف ہوں گے جبکہ روس اور چین ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یورپی یونین کے ممالک میں بھی رائے متفرق ہے۔ برطانیہ اور فرانس ممکنہ طور پر امریکا کی حمایت کریں گے لیکن جرمنی اور دیگر ممالک احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو امریکی بیسز اور اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا جس سے تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث اور عالمی ردعمل
سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر شدید بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں اور ایران پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے اسرائیل فرسٹ پالیسی قرار دے رہے ہیں۔ عالمی میڈیا میں ٹرمپ کو بعض تجزیہ کار وار مونگر کہہ کر پکار رہے ہیں لیکن فوربز اور انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کی رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران بھی جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ممکنہ طور پر ٹرمپ کی مذمت کریں گے لیکن عملی طور پر زیادہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ عرب ممالک خاموش یا امریکا کی حمایت کریں گے جبکہ پاکستان اور بھارت غیر جانبدار رہنے کی کوشش کریں گے۔
نتیجہ: خطرات اور ممکنہ نتائج
ٹرمپ کی دھمکیاں سنجیدہ ہیں اور حملہ ممکنہ حقیقت ہے، لیکن یہ محدود رہنے کا امکان ہے تاکہ فورایور وار سے بچا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتکاری اب بھی بہتر آپشن ہے جیسا کہ نائب صدر جے ڈی وانس تجویز کر رہے ہیں۔ اگر حملہ ہوا تو عالمی سطح پر امریکا کے خلاف صف بندی ممکن ہے کیونکہ یہ علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ اس کے معیشت پر اثرات براہ راست محسوس ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر تناؤ کم نہ ہوا تو 2026 عالمی سطح پر ایک نیا تنازعہ یا جنگ کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








