ایران جنگ: خطے پر اثرات اور مستقبل کے خدشات

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ اپنے اٹھائیسویں دن میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اور دور رس ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اگرچہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر مجوزہ حملوں کو 6 اپریل تک مؤخر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امن مذاکرات “بہت عمدہ انداز میں” آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ایرانی قیادت نے امریکی تجاویز کو “یکطرفہ اور غیر منصفانہ” قرار دے کر اس تاثر کو کمزور کر دیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں تیز ہوچکی ہیں تاکہ اس تنازع کو ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں  کے نتیجے میں اب تک 1900 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے  اور  اس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل اور متعدد خلیجی ممالک، بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ حتیٰ کہ ابوظہبی میں ایک حملے کے ملبے سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی بھی ہوئے، جو اس جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرۂ اثر کی واضح مثال ہے اور کویت میں بھی مسلسل فضائی حملوں کے خطرات کے باعث سائرن اور دھماکے معمول بن چکے ہیں۔

ایسی صورتحال میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ  ایران جنگ کے اثرات انتہائی دور رس ہوں گے، اور اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو ایران، بھاری نقصانات برداشت کرنے کے باوجود، اپنی حکمت عملی کو روایتی جنگ سے ہٹا کر زیر زمین یا گوریلا سرگرمیوں کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف پورا مشرق وسطیٰ بلکہ دیگر خطے بھی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص وہ تمام علاقے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، وہاں پراکسی حملوں یا گوریلا کارروائیوں کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

اسی تناظر میں خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کی معیشت  پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے فی کس آمدنی متاثر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ جو خطے عالمی سرمایہ کاروں کیلئے “محفوظ پناہ گاہ” سمجھے جاتے تھے، وہ اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

یہ صورتحال پاکستان جیسے ملک کیلئے بھی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے جہاں تقریباً 20 فیصد شیعہ آبادی ایران کے مذہبی و سیاسی اثرات سے قریب سمجھی جاتی ہے، اور اپنی دفاعی معاہدے کی ذمہ داریوں کے تحت پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا  ہونا ایک ایسی مجبوری ہے جس سے  ملک میں  داخلی سطح پر فرقہ وارانہ تناؤ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ ماضی میں 1990 کی دہائی کے دوران ایسی تنظیمیں، جن کے روابط ایران سے جوڑے جاتے تھے، پاکستان میں فرقہ وارانہ  دہشت گردی میں ملوث رہیں ، جس سے اس خدشے کی سنگینی مزید واضح ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب، اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکا کیلئے بھی اس کو جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات، ہلاکتیں، اور اندرونی سیاسی دباؤ، جہاں ایک حالیہ سروے کے مطابق 64 فیصد امریکی عوام ایران جنگ میں حکومتی پالیسی سے ناخوش ہیں، صدر ٹرمپ کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، امریکی عسکری وسائل پر دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یوکرین کیلئے مختص دفاعی نظام کو مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

عالمی معیشت بھی اس جنگ سے شدید متاثر ہو رہی ہے اور  آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 30 فیصد خام تیل، 33 فیصد فرٹیلائزر، 50 فیصد یوریا اور سلفر کی برآمدات گزرتی ہیں، اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ ایران نے اس اہم گزرگاہ پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کو اپنی غیر لچکدار شرائط میں شامل کیا ہے اور  اس راستے میں خلل کے باعث نہ صرف توانائی بحران شدت اختیار کرے گا بلکہ زرعی پیداوار میں کمی کے نتیجے میں خوراک کی شدید قلت ،حتیٰ کہ قحط جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

اگر یہ جنگ مزید طول اختیار کرتی ہے تو ایران کی جانب سے دیگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں یا وہاں تعینات فوجیوں کو نشانہ بنانے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے، چاہے وہ عام آبادیوں کے درمیان ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ اس کے نتیجے میں مقامی آبادی من حیث القوم اور بطور مسلمان اپنے  مذہبی، جذباتی  او رجانی تحفظ کیلئے اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ امریکی فوجی موجودگی کو ختم کریں، کیونکہ یہ اڈے تحفظ کی بجائے خطرے اور مسلم ممالک میں انتشار کا  باعث بن رہے ہیں۔ اگر حکومتیں عوامی مطالبات کو نظرانداز کریں تو خطے میں عوامی ردعمل اور ممکنہ احتجاجی تحریکوں کے بھی جنم لینے کا امکان  ہے۔

ادھر اسرائیل بھی ایک سے زائد محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے، جہاں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کیلئے مزید فوجیوں کی ضرورت کا اعتراف کیا گیا ہے، جبکہ اپوزیشن قیادت حکومت پر بغیر حکمت عملی کے کثیر محاذی جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے۔ لبنان، عراق اور یمن میں بھی اس جنگ کے اثرات شدت اختیار کر چکے ہیں، جہاں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور علاقائی استحکام مزید کمزور پڑ رہا ہے۔

مستقبل کے منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی سلامتی کا نیا ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے، جس میں ایران، خلیجی ممالک اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اہم کردار ادا کرتے نظر آرہے ہیں۔ طاقت کا توازن بتدریج عالمی شمال سے عالمی جنوب کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھتی جائے گی، جہاں یک قطبی نظام کی  جگہ دو قطبی  یا کثیر قطبی نظام لے لے گا، جس میں چین، روس اور امریکا کلیدی قوتوں کے طور پر موجود ہوں گے۔ یوں یہ جنگ محض ایک علاقائی تنازعہ  نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی تغیر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے بنیادی اصولوں کو ازسرنو متعین کرے گا۔

Related Posts