ایران جنگ۔۔۔ پاکستان کا سفارتی معرکہ اور بھارتی سازش

تازہ ترین

تازہ ترین

رواں ہفتے عالمی سیاست کے میدان میں اور بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک ایسا کمال ہوا جس نے نہ صرف پاکستان مخالف قوتوں بلکہ بین الاقوامی مبصرین کو بھی حیران و پریشان کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی نے پورے خطے میں انسانی جانوں اور عالمی امن کے لئے شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کر دیا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں خلیجی ریاستوں میں امریکا سے متعلقہ تنصیبات محفوظ نہیں رہیں گی، جس سے ایک بڑے انسانی بحران کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اس خطرناک صورتحال میں وہ کر دکھایا جو بھارت سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک نے شفافیت، خلوص اور محتاط سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا بین الاقوامی سفارتی معرکہ سرانجام دیا کہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری و ایٹمی طاقت، امریکا، نے ایران کو نیست و نابود کرنے کا جنون چھوڑ کر دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک، عالمی برادری اور امریکی انتظامیہ کے لئے بھی ایک حیران کن پیش رفت تھی جو بھارت اور اسرائیل جیسے پاکستان کے ازلی دشمن ممالک اور ان کی قیادت کے دلوں پر بجلی بن کر گرا۔

گو کہ بھارت میں متعدد سیاستدانوں اور دانشوروں نے مودی حکومت پر تنقید کی ہے، مگر انہی میں سے آزاد سیاست اور سفارت کاری کا  ایک بہت بڑا نام ششی تھرور ہیں۔ انہوں  نے  ایک ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان نے نئی سفارتی شناخت حاصل کی جبکہ بھارت نہ صرف عالمی سیاست و سفارت کاری میں پیچھے رہ گیا بلکہ خطے میں اپنا سابقہ اثر و رسوخ تک کھو بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ آن لائن پیغامات کو دیکھا ہو تو آپ کو پتہ چلے گا کہ مجھے دھچکا کیوں لگا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھارتی حکومت کی بہت بڑی سفارتی ناکامی ہے ۔ آج  بی جے پی پر تنقید نہ کرنا اور خاموش رہنا صرف اندھی وفاداری ہوگی اور ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان عالمی برادری کیلئے مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔ہم زیادہ دیر تک  خاموشی کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیونکہ اس دوران عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہو کر ہمارے خلاف ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ سنگ میل اس وقت مزید اہمیت اختیار کرجاتا ہے جب دیکھا جائے کہ اس کا آغاز بھارت کے جارحانہ رویے اور نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات کی خارجہ پالیسی میں شمولیت سے ہوا۔ بھارت کے خلاف معرکہ حق میں پاکستان نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی شفافیت  پر مبنی مؤقف اختیار کیا۔ مئی کے اجلاس میں ایک بار پھر واضح کر دیا گیا کہ اگر پاکستان پر دوبارہ جارحیت کی گئی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور جب پاکستان نے وہ منہ تو ڑ جواب دے دیا تو پاکستان کے شفاف مؤقف کی بدولت وائٹ ہاؤس میں ہمارے فیلڈ مارشل کو خصوصی طور پر اوول آفس کا دورہ کرایا گیا جو کہ پاکستان کے ساتھ عزت و تکریم کا عملی اظہار ہے۔

ایران کی جانب سے بھی پاکستان کی کوششوں کو مثبت طور پر دیکھا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے فوری خاتمے کو اپنی 10 نکاتی امن پلان کا بنیادی جزو قرار دیا، جبکہ ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے حل کے لیے جاری مذاکرات میں کسی بھی فریق کی جانب سے سیز فائر نکات کی ورزی ناقابل قبول ہے۔ ایران نے واضح کیا کہ امریکی ٹیم کے پچھلے مذاکرات کار، خاص طور پر سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر پر اعتماد محدود ہے، اور اس لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ہفتے کے روز سے بات چیت کے آغاز کا امکان ہے۔

اس دوران اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری اور خطے میں تشدد کے فروغ کی کوششیں ایک سنگین چیلنج تھیں، کیونکہ یہ کوششیں عالمی امن کو سبوتاژ کر سکتی تھیں عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی کمیٹی برائے  ریڈ کراس نے لبنان میں ہونے والے قتل و غارت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس کو جنگی جرم قرار دیا۔

اس دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی  نہ صرف سفارتی محاذ پر کامیاب رہی بلکہ اس کے اثرات معاشی اور داخلی سطح پر بھی محسوس کیے گئے۔ اگرچہ معاشی معاملات مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے تاہم  ملکی قیادت کو فوری اور حقیقی منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی کامیابیوں کا فائدہ اقتصادی میدان میں بھی منتقل ہو سکے۔ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی نے یہ ثابت کر دیا کہ عسکری قوت کے ساتھ شفاف ڈپلومیسی، خلوص اور ٹھوس منصوبہ بندی کس طرح عالمی سطح پر اثر ڈال سکتی ہے۔تشویشناک طور پر خطے میں کشیدگی  تاحال برقرار ہے اور ایران و امریکا کے مابین طے شدہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ انتہائی نازک ہے اور اس دوران لبنان میں تشدد کے فروغ کو روکنا اوّلین ترجیح ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فالس فلیگ آپریشنز، خطے میں قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش، اور عالمی طاقتوں کی مختلف ترجیحات کے باوجود پاکستان نے ایک شفاف اور مستقل موقف اختیار کیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور ثالثی کی حیثیت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔پاکستانی قیادت کی شفافیت، خلوص اور محنت نے نہ صرف خطے میں جنگ کے امکان کو کم کیا بلکہ عالمی مبصرین کے لیے بھی ایک مثال قائم کی کہ کس طرح ایک متوسط طاقت ملک عالمی سطح پر اپنا موقف مضبوط کر سکتا ہے۔یہی نہیں، بلکہ پاکستان کی یہ خارجہ پالیسی، جسے عسکری اور سفارتی محاذ پر یکجا کیا گیا، مستقبل میں نصابی کتابوں میں بھی  پڑھائی جائے گی تاکہ طلبہ اور محققین سمجھ سکیں کہ عسکری قوت کے ساتھ سفارت کاری اور شفافیت کے حسین امتزاج سے کس طرح عالمی بحرانوں میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts