وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتوار کو سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اجلاس کی صدارت کا موقع پاکستان کو ملا، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے تنازعے کا سدباب ہے ، جس کے نتیجے میں پاکستان کی سفارتی حیثیت عالمی سطح پر اس قدر مستحکم ہوگئی ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
دراصل پاکستان ہو یا کوئی بھی ملک ، اس کی جانب سے ثالثی کیلئے کوششیں اور مذاکرات کی میزبانی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں معاشی اضطراب کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ایران جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے علاوہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک اور دنیا بھر کے ممالک پر مرتب ہورہے ہیں۔ یہ اس لیے تاریخ ساز ہے کیونکہ پوری دنیا معاشی کرب میں مبتلا ہے جو دنیا کیلئے الجھن کا باعث بن رہا ہے اور دنیا کے تمام ممالک جنگ سے اس لیے ناخوش ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہورہا ہے کہ ایران جنگ کتنی خطرناک ہے ، ان کی معیشتوں اور آبادیوں پر اس کے کیا اثرات و مضمرات مرتب ہورہے ہیں اور وہ متاثرہ ممالک کیلئے کتنی دشواریوں کا سبب بن رہے ہیں۔
امریکا میں ایران جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ رپورٹس کے مطابق 80 لاکھ سے زائد افراد امریکا میں 3000 سے زائد مختلف مقامات پر نکلے اور انہوں نے نو وار اور نوکنگ کے متعلق نعرے بازی کی۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف مظاہرے ہوئے جن میں اٹلی، فرانس، اسپین، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریلیا، ایتھنز اور اسرائیل شامل ہیں۔ اسرائیلی عوام نے بھی مہینوں تک بنکر میں رہ کر اپنی زندگی اجیرن کرلی، جبکہ اسرائیل کی مجموعی آبادی 98 لاکھ ہے اور عرب مسلمان اسرائیلی شہری 20 لاکھ سے زائد ہیں، جنہیں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے کیونکہ امریکا نے ایران کے ساحلی علاقوں بشمول خارگ جزیرے پر زمینی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق ایران میں محدود زمینی کارروائی میں خصوصی دستے اور روایتی فوجی حصہ لیں گے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق پینٹاگون ہفتوں پر محیط زمینی جنگ کے لیے تیار ہے، تاہم ابھی واضح نہیں کہ صدر امریکا زمینی فوج کی تعیناتی کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
خطے میں دیگر پیش رفتوں میں یمن کے حوثیوں نے پہلی مرتبہ اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور اعلان کیا کہ وہ فلسطین، لبنان، عراق اور ایران میں مزاحمتی محاذوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے 20 پاکستانی جھنڈے کے حامل جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، جسے پاکستان نے امن قائم کرنےکیلئے ایک اہم اقدام قرار دیا۔ ایران کی اس پیش رفت سے عالمی توانائی کے بحران میں کمی کی توقع ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی جارہی ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی ) نے خلیجی ممالک پر اپنے حملوں کو جاری رکھا ہوا ہے اور یہ حملے امریکا کی فوجی تنصیبات کے خلاف ردعمل کے طور پر کیے گئے، کیونکہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی صنعتی تنصیبات پر حالیہ حملے کیے تھے۔ عالمی المونیم کی سپلائی کے 4 سے 9 فیصد کا انحصار اس خطے پر ہے، جس سے عالمی سپلائی کو سنگین خدشات لاحق ہیں۔
لبنان میں بھی حالات نازک ہیں، جہاں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 3صحافی اور طبی عملے کے 9 ارکان جاں بحق جبکہ 3,300 سے زائد زخمی ہوئے۔ جنوبی لبنان میں اسپتال اور 51 ابتدائی صحت مراکز بند ہو گئے ہیں اور کئی دیگر محدود صلاحیت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اسرائیلی و امریکی حملوں میں اب ایرانی جامعات کو بھی ہدف بنالیا، جس کے نتیجے میں اب پاسداران انقلاب نےبھی اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج میں امریکی جامعات کو بھی ہدف بنائیں گے۔
یہاں اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی سفارتی تاریخ اور اس کے ڈی این اے میں شامل ہے کہ پاکستان کثیر جہتی فورمز پر موثر کردار ادا کرتا آیاہے اور نہ صرف 1971 میں امریکا اور چین کے مابین دوریاں ختم کرنے کا سہرا پاکستان کے سر ہے بلکہ 1980 میں جنیوا اکارڈ میں سوویت یونین اور افغانستان کے درمیان پس پردہ سفارت کاری، اور دوحہ معاہدے میں بیک چینل ڈپلومیسی، اسی روایت کا حصہ بنیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران جنگ کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خطے کی بگڑتی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہوسکے اور دنیا اس جنگ کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
