امریکا ایران مذاکرات متوقع طور پر پیر کے روز نہ ہونے کے باوجود پاکستان اور متعلقہ ممالک پر امید دکھائی دیتے ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے میں اب کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی اور صرف حتمی مراحل مکمل ہونا باقی ہیں، تاہم ساتھ ہی وہ اس مؤقف پر بھی قائم ہیں کہ جب تک مکمل معاہدہ 100 فیصد طے نہیں ہوتا، امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی اور دباؤ کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔اس کے برعکس ایرانی حکام نے امریکی بیانیے کو یکسر قبول نہیں کیا اور واضح کیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی صورت کہیں بھی منتقل نہیں کیے جائیں گے، جیسا کہ واشنگٹن کی جانب سے تاثر دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ایران جنگ کو ختم کرانے کیلئے کی گئی سفارتی کاوشوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 47سال سے جن ممالک کے قائدین ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کیلئے تیار نہیں تھے، وہ اسلام آباد میں آئے اور 21گھنٹوں تک طویل مذاکرات بھی ہوئے اور مذاکرات کیلئے ایران کی وہ قیادت پاکستان پہنچی جن کے عزیز واقارب کو بھی شہید کردیا گیا تھا۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ دے چکے ہیں تاہم امریکا کے ساتھ ساتھ ایران بھی اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے کیونکہ شرائط منوانے کیلئے یہی وقت اہمیت کا حامل بھی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر جو یہاں سے عسکری کے ساتھ ساتھ روایتی ڈپلومیسی کے بھی اختیارات ساتھ لے کر گئے تھے، انہوں نے 3 روزہ طویل دورہ مکمل کرلیا ہے۔ ایران کے اس دورے کے دوران انہوں نے تہہ در تہہ ڈپلومیسی کا راستہ اپناتے ہوئے ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کی اہم شخصیات سے فرداً فرداً ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں سے ایران اور امریکا کے مابین مزید برف پگھلی جس سے ڈائیلاگ کا مرحلہ اور مستقل جنگ بندی کی جانب بڑھنے کے امکانات ایک بار پھر پیدا ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ آج دوپہر کو ایران نے اپنے ہوائی اڈے اور فلائٹس کھول دیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایرانی قیادت کو اس کی یقین دہانی بھی کرائی جاچکی ہوگی۔
بعض تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹنا شروع ہوسکتی ہیں اور اگر پابندیاں ہٹنے کا سلسلہ شروع ہو تو اس کے نتیجے میں اس پورے خطے میں تجارتی سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی۔ آج سامنے آنے والے اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک بڑا ذہین اور قابل شخص آنے والا ہے اور اگر ایران امریکا جنگ کے معاملے میں سفارتی کاوشوں کی گہرائی و گیرائی پر نظر ڈالی جائے تو راقم الحروف کی نظر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف جاتی ہے کیونکہ فیلڈ مارشل امریکا ایران کے مابین جنگ بندی کیلئے عسکری و سیاسی سفارت کاری کو جس نہج پر لے گئے، اور جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے، وہ حکمت عملی آنے والے وقتوں میں نہ صرف سنہری حروف سے لکھی جائے گی بلکہ نصابی کتابوں کا حصہ بنے گی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین صرف گولہ بارود اور میزائل برسانے کی جنگ نہیں تھی بلکہ وہ لفظی جنگ بھی تھی جو پل پل اس جنگ کے شعلوں کو بھڑکاتی نظر آتی تھی لیکن جب سے وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی ثالثی سامنے آئی، دونوں جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ تھما اور بم اور میزائل برسانے کی گھن گھرج بھی کم ہو کر جنگ بندی کے نتیجے میں ایران میں خون آشام روز و شب کا خاتمہ ہوا۔ اس سے قبل جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی بات کی تو پوری دنیا دم سادھ کر بیٹھ گئی تھی کیونکہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی عسکری و ایٹمی قوت ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا خوف میں مبتلا ہوگئی۔ وہ معاملہ ختم اس لیے ہو ا کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اتنے متمول عہدے پر فائز ہونے کے باوجود جنگ زدہ ملک میں جا کر امن کا پیغام دیا تاکہ یہ سفارت کاری ایک ایسے نکتے پر اختتام پذیر ہو جو دنیا کو جنگ کے خوف سے نکال کر امن کی جانب لے جائے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اب تک دنیا بھر میں فقط تین ایسے جنرل گزرے ہیں جو جنگ کے دوران امن لائے، جس کے سبب نوبل کمیٹی نے انہیں نوبل پرائز سے نوازا۔
جنگ بندی مذاکرات کیلئے جاری سفارتی کاوشوں کے دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران نے حالیہ صورتحال میں اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی توانائی رسد کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بعد ازاں اسے مخصوص شرائط کے ساتھ کھولا گیا، تاہم چند ہی گھنٹوں بعد دوبارہ بندش کی خبریں سامنے آئیں، اور ایران نے امریکی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم ہونے تک اسے دوبارہ بند رکھنے کا اعلان کردیا۔ اسی تناظر میں ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر روایتی ٹرانزٹ فیس کے بجائے “آبنائے کے مربوط نظام کو نافذ کرنے اور ایک فریم ورک بنانے کیلئے قانون سازی کی جا رہی ہے ۔
یہ صورتحال صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہی بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں بھی اس میں براہ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے کثیر القومی کوشش کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے جو حالات سازگار ہوتے ہی شروع کی جائے گی، جبکہ سعودی عرب نے صورتحال کو اب بھی غیر مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار اور رسد کی بحالی مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے ممکن ہوگی۔
دوسری جانب لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی وقتی وقفے کے باوجود مکمل خاموشی نظر نہیں آ رہی۔ اگرچہ بعض سطح پر جنگ بندی کے اشارے دیے گئے ہیں، تاہم اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔ اسی طرح لبنان میں حملوں کے باوجود جانی نقصان کی اطلاعات نے خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے۔
مجموعی صورتحال اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف مذاکراتی عمل ہے جو آخری مراحل میں ہے اور دوسری طرف زمینی حقائق ہیں جو مسلسل دباؤ اور کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال، توانائی منڈیوں میں عدم استحکام، اور عسکری بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ خطے میں امن گو کہ اتنا دور نہیں، جتنا کہ جنگ کے آغاز پر نظر آرہا تھا، تاہم اب بھی ایک پیچیدہ راستہ ا س کامنتظر ہے۔ تاہم اسی پیچیدگی کے اندر یہ امید بھی موجود ہے کہ فریقین لچک کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں ، جس کے سبب مذاکرات اور بیک چینل ڈپلومیسی محض ایک وقفہ نہیں بلکہ ایک نئے سفارتی باب کا آغاز ثابت ہوتی جارہی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کے توازن کو بھی نئی سمت عطا کرسکتی ہے، کیونکہ عالمی برادری بخوبی واقف ہے کہ اس جنگ کے اثرات و مضمرات دنیا کو ایسے عظیم معاشی دباؤ کا شکار کرسکتے ہیں جو 1929 کی معاشی کساد بازاری سے بھی زیادہ مضر ثابت ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تجارت، روزگار اور مالی نظام شدید طور پر متاثر ہوا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں