اسلام آباد میں اتوار کے روز اختتام پذیر ہونے والے ایران امریکا مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہو گئے، مگر اس تعطل کے اندر ہی آئندہ پیش رفت کے روشن امکانات بھی پوشیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ 21 گھنٹوں پر محیط طویل گفت و شنید کے بعد امریکی وفد بغیر کسی حتمی معاہدے کے واپس روانہ ہوا تو ایک مرتبہ پھر یہ سوال ابھرا کہ آیا یہ ناکامی ہے یا کسی بڑے معاہدے سے پہلے کے پیچ و خم کو دور کرنے سے قبل ناگزیر خاموشی؟
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل کہا کہ امریکا نے حتمی اور بہترین پیشکش کی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس پر کیا ردعمل دیتا ہے اور ساتھ ہی جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ جوہری افزودگی ہماری ریڈ لائن ہے ۔ دوسری جانب ایران نے بھی مذاکرات کو مکمل ناکامی قرار دینے سے گریز کیا ، اس پس منظر میں مذاکرات میں آنے والا یہ تعطل برف پگھلنے کا اشارہ تو کہا جاسکتا ہے، طویل تعطل کا پیش خیمہ نہیں اور نہ ہی اقوامِ عالم آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے سبب مزید معاشی تکالیف اور درد برداشت کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں۔
ان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ 40 روز سے جاری اس جنگ کے بعد ہو رہے تھے جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور کثیر تعداد میں مختلف عمارات مسمار کی گئیں جن میں سول آبادی کےساتھ ساتھ ہسپتال، اسکول اور مساجد کو بھی نہ بخششا گیا۔ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں ایران میں ہوئیں جہاں کارپٹ بمبنگ جیسے امریکی اور اسرائیلی حملوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح طور پر کہا کہ اتنے پیچیدہ حالات میں کسی ایک نشست میں معاہدہ نہ ہونا غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ ایسے الجھے ہوئے معاملات میں متعدد ادوار کی بات چیت درکار ہوتی ہے۔ تہران کے شہریوں نے بھی محتاط امید کا اظہار کیا، اگرچہ مسلسل فضائی حملوں اور گزشتہ مذاکرات کے دوران دھوکے کے سبب ان کا اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔
امریکی مؤقف بھی اسی طرح سخت مگر محدود دائرے میں رہا۔ جے ڈی وینس نے بتایا کہ 21 گھنٹوں کی بات چیت کے دوران انہوں نے بارہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشاورت کی اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی رابطے میں رہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی وفد کو جوہری معاملات کسی بڑے فیصلے کا مکمل اختیار حاصل نہ تھا اور انہیں مسلسل واشنگٹن سے ہدایات مل رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے دوران چند نکات پر ، بالخصوص جوہری معاملے لچک نہ دکھلائی گئی اور بنیادی اختلافات برقرار رہے۔
یہ ظاہری تعطل اس لیے بھی اہم ہے کہ مذاکرات کا بنیادی اختلاف جوہری پروگرام کے گرد گھومتا رہا۔ امریکا کی مرکزی شرط یہی رہی کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہو۔ امریکی ماہرین نے بھی یہی کہا کہ واشنگٹن نے مذاکرات میں اپنے اہداف واضح کیے مگر موقف میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا بنیادی طور پر ایران کی جوہری افزودگی کو خاتمے کی حد تک محدود کرنا چاہتا ہےاور یہی عندیہ نیتن یاہو گزشتہ کئی دہائیوں سے دیتے آئے ہیں، جبکہ ایران عالمی قوانین کے تحت سویلین مقاصد کے لیے افزودگی کے حق پر زور دیتا ہے۔
یہ صورتحال 2015 کے جوہری معاہدے کی یاد تازہ کرتی ہے جب طویل مذاکرات کے بعد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک جامع سمجھوتہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو محدود سطح تک افزودگی کی اجازت دی گئی تھی، مگر بعد میں امریکا نے اس سے دستبرداری اختیار کر لی۔ اس کے بعد ایران نے اپنے پروگرام کو وسعت دی اور افزودگی کی شرح میں اضافہ کیا، جس پر اسرائیل اور امریکا حرکت میں آگئے۔
اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ دونوں جانب سے متعدد نکات زیر بحث آئے۔ ایران نے دس نکات پیش کیے جبکہ امریکا نے پندرہ نکات کا فریم ورک رکھا۔ تاہم روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے بنیادی طور پر ایک مرکزی شرط پر زور دیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل اختلاف محدود مگر حساس نوعیت کا ہے۔ ایرانی مؤقف بھی یہی تھا کہ تمام معاملات ایک دورانیے میں طے نہیں ہو سکتے اور مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دونوں فریق مکمل طور پر مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوئے بلکہ آئندہ مرحلے کے لیے راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں جبکہ راکٹ حملوں اور ڈرون سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق مارچ سے اب تک ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا کہ اگر ایران امریکا مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ان تمام عوامل کے باوجود سفارتی امیدیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری جاری و ساری رکھے گا۔ یہ بیان بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکرات کا عمل ختم نہیں ہوا بلکہ صرف ایک مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ اسی تناظر میں آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک نے بھی دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ بات چیت جاری رکھی جائے اور جنگ بندی کو مستقل شکل دی جائے۔
دونوں جانب سے سخت بیانات ضرور سامنے آئے مگر دروازے بند نہیں ہوئے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی اختلافات محدود مگر اہم نوعیت کے ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے مزید سفارتی کوششیں درکار ہیں۔ اگر آئندہ ہفتوں میں دوبارہ مذاکرات ہوتے ہیں تو جنگ بندی میں توسیع اور کشیدگی میں کمی ممکن ہے۔عالمی منظرنامے میں بھی یہی اشارے مل رہے ہیں کہ کوئی بھی فریق مکمل تصادم نہیں چاہتا۔ امریکا میدان جنگ میں جیت کا دعویٰ کر رہا ہے مگر سفارتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران شدید نقصان کے باوجود مزاحمت کے ساتھ ساتھ مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوا۔ عالمی طاقتیں توانائی بحران سے بچنا چاہتی ہیں جبکہ خطے کے ممالک وسیع جنگ کے خطرے سے پریشان ہیں۔ ان تمام عوامل کو سامنے رکھا جائے تو امکان یہی ہے کہ تعطل کے باوجود بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا اور اگر مذاکرات کا اگلا دور منعقد ہوتا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ اختلافات بھی حل ہو جائیں جو اس مرحلے پر رکاوٹ بنے جبکہ عالمی معیشت، خطے کے امن اور توانائی کے استحکام کے لیے یہی راستہ سب سے زیادہ قابل عمل دکھائی دیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں