فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر ایک چینی جاسوس سیٹلائٹ حاصل کر لیا ہے، جس کے ذریعے ایران کو حالیہ جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی نئی صلاحیت مل گئی۔
رپورٹ کے مطابق TEE-01B سیٹلائٹ، جسے چینی کمپنی ارتھ آئی کمپنی نے تیار اور خلا میں بھیجا، 2024 کے آخر میں پاسدارانِ انقلاب ایران کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا۔ یہ سیٹلائٹ چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کیا گیا، جس کا انکشاف ایرانی فوجی دستاویزات کے لیک ہونے پر ہوا۔
اخبار کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈروں نے اس سیٹلائٹ کو بڑے امریکی فوجی مقامات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا، جس کی تصدیق وقت کے ساتھ درج کوآرڈینیٹس، سیٹلائٹ تصاویر اور مداری تجزیے سے ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے پہلے اور بعد میں لی گئیں۔
رائٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
وائٹ ہاؤس، سی آئی اے، پینٹاگون، چین کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع، ارتھ آئی کمپنی اور ایمپوسیٹ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
معاہدے کے تحت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو ایمپوسیٹ کے زیرِ انتظام کمرشل گراؤنڈ اسٹیشنز تک رسائی بھی دی گئی، جن کا نیٹ ورک ایشیا، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں تک پھیلا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سیٹلائٹ نے 13، 14 اور 15 مارچ کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی تصاویر حاصل کیں۔
14 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر موجود امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ نے اردن کے موافق ایئر بیس، بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحری بیڑے کے قریب مقامات، اور عراق کے اربیل ایئرپورٹ کی بھی نگرانی کی، خاص طور پر اس وقت جب ان علاقوں میں پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








