امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نمائندے پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے، تاہم ایران نے مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔
اُدھر ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران کا واضح مؤقف ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے اعلان تک واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی وفد پاکستان روانہ کیا جائے گا۔
تاہم الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








