مشرقِ وسطیٰ کے خطے کو ایک ایسی جنگی بھٹی میں جھونک دیا گیا ہے جہاں بارود کی بو، معصوم جانوں کے زیاں اور عالمی سیاست کے پیچیدہ دھاگے ایک دوسرے میں الجھتے چلے جا رہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری حملوں نے نہ صرف خطے میں ایک لرزہ پیدا کردیا ہے بلکہ اس کے اثرات ان سرحدوں سے نکل کر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے تک سرایت کرتے جارہے ہیں۔
ایران کے مختلف شہروں، خصوصاً تہران، کرج، شیراز اور شہریار میں ہونے والے دھماکوں نے خوف و ہراس کی فضا کو گہرا کر دیا ہے، جبکہ اراک شہر میں ایک افسوسناک حملے نے تین روزہ نومولود اور اس کی دو سالہ بہن سمیت ایک ہی خاندان کی کئی زندگیوں کے چراغ گل کردئیے اور مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ ہو چکی ،جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
جنگ کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کی لپیٹ میں خلیجی ریاستیں بھی آ چکی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل زون میں بتدریج ڈرون حملے جاری ہیں جس سے علاقے کا یہ حصہ آگ کے شعلوں میں تبدیل ہوگیا جبکہ گزشتہ شب ابوظہبی میں میزائل کے ملبے سے ایک پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوا۔ قطر، کویت، بحرین اور سعودی عرب میں بھی دفاعی نظام متحرک رہے، جہاں درجنوں میزائل اور ڈرون تباہ کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں فضائی حدود کی عارضی بندش اور صنعتی علاقوں میں آگ لگنے جیسے واقعات نے خطے میں ایک بھونچالی صورتحال پیدا کردی ہے۔
دوسری جانب ایران نے نہ صرف اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے بلکہ امریکی اور اتحادی تنصیبات کو بتدریج نشانہ بنا کر واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آنے والا نہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہ کسی “غنڈہ گردی” کے سامنے سر جھکائے گا۔ اس کشیدگی کے ساتھ ہی اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں لبنانی شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
عالمی سطح پر اس جنگ کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ثابت ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی رسد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکا کی جانب سے برطانیہ اور فرانس پر اس اہم گزرگاہ کے تحفظ کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، تاہم یورپی ممالک نے اس جنگ میں براہ راست شمولیت سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر امریکی قیادت کے سخت بیانات اور ایران کو “کمزور حریف” قرار دینے جیسے دعوے اس تنازع کو مزید گمبھیر بنا رہے ہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں ایک اہم نکتہ جو ابھر کر سامنے آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ امریکا کا یہ زعم کہ وہ چند دنوں میں ایران کو زیر کر لے گا، حقیقت کی کسوٹی پر پورا اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح اسرائیل، جو امریکی پشت پناہی کے سہارے خطے میں جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے تھا، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کے لیے ہر قدم نہایت نازک ہو گیا ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل نہیں نکلتا، خطے میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ اگرچہ دنیا کے 157 ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں، مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کے ویٹو پاور کے استعمال کے باعث یہ مسئلہ بدستور تعطل کا شکار ہے۔ یہی وہ بنیادی تنازع ہے جو بار بار خطے کو جنگ کی طرف دھکیلتا ہے اور عالمی طاقتوں کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس میں ملوث کر دیتا ہے۔
مزید برآں، اس جنگ کا ایک اہم پہلو عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی بھی ہے۔ دنیا جس تیزی سے گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی جانب منتقل ہو رہی ہے، اس عمل میں اب مزید سرعت آنے کا امکان ہے۔ مغرب سے مشرق کی جانب طاقت کا جھکاؤ، چین اور روس جیسے ممالک کے کردار کو مزید اہم بنا سکتا ہے، جبکہ خلیجی ریاستیں، جو ماضی میں اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر انحصار کرتی رہی ہیں، اب متبادل سکیورٹی انتظامات کی تلاش میں ہیں۔
تاہم اس تمام منظرنامے میں سب سے تشویشناک پہلو اسرائیل کا “سیمسن آپشن” ہے، جسے تجزیہ کار ایک انتہائی خطرناک جوہری حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جس کے تحت اگر اسرائیل خود کو دیوار سے لگا ہوا محسوس کرے، تو وہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔
یوں یہ جنگ محض ایک علاقائی تصادم نہیں رہی بلکہ ایک ایسے عالمی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جس میں معیشت، سیاست، سلامتی اور انسانیت سبھی داؤ پر لگتے جارہے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا عالمی برادری اس آگ کو بجھانے میں کامیاب ہوتی ہے یا یہ شعلے ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھیں گے، اور اس تمام تر تغیراتی و انقلابی عمل کے دوران دنیا مختلف توڑ پھوڑ کا شکار رہے گی ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
