ایران جنگ کے اثرات پاکستان میں داخل ہونا شروع، بلوچستان میں مہنگائی کا طوفان

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد پار تجارت کو متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور دونوں جانب واقع قصبوں اور سرحدی علاقوں کی آبادی طویل عرصے سے روزمرہ اشیائے ضروریہ کے لیے غیر رسمی تجارت پر انحصار کرتی رہی ہے۔

تاہم ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں تہران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجِ عرب میں امریکی مفادات کے خلاف جوابی کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث حکام نے سرحد کے اہم راستے بند کر دیے ہیں۔

اس کے نتیجے میں وہ سامان جو پہلے باقاعدگی سے سرحد کے آر پار منتقل ہوتا تھا، اب متاثر ہو گیا ہے۔ سرحدی قصبے تفتان کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے سے بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ سبزیاں جو پہلے تقریباً 200 سے 250 روپے فی کلو فروخت ہوتی تھیں، اب 250 سے 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں، جس سے محدود آمدنی رکھنے والے رہائشیوں پر مزید مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اس صورت حال نے سرحد پار تجارت پر انحصار کرنے والے کاروباروں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق تفتان میں خوراک کی اشیاء کی کمی بڑھ رہی ہے اور سرحد کے ذریعے آنے والی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی کم ہوتی فراہمی پورے پاکستان میں سپلائی کو متاثر کرنا شروع ہو گئی ہے۔ علاقے کے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث انہیں کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Related Posts