MM NEWS URDU
Sunday 2nd October 2022 / 6 Rabiulawal 1444

ملک میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات، حکومت کو کونسے اقدامات کرنے چاہئیں؟

ملک میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات، حکومت کو کونسے اقدامات کرنے چاہئیں؟

ملک میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات، حکومت کو کونسے اقدامات کرنے چاہئیں؟

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، کچھ عرصے قبل تک ہم دیکھتے تھے کہ اس کا شکار صرف نوجوان لڑکیاں یا کمسن بچے ہوتے تھے۔

تاہم اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واقعات عورتوں سمیت لڑکوں کے ساتھ بھی پیش آرہے ہیں، ساتھ ہی زیادتی کے دوران متاثرین کی ویڈیو بنانے کا قبیح عمل بھی کیا جاتا ہے۔

جنسی زیادتی کے تازہ ترین واقعات

حال ہی میں بہاءالدین زکریا ایکسپریس میں خاتون سے مبینہ زیادتی کا واقعہ ہوا، جب ملزمان نے ٹرین میں خاتون کو اجتماعی زیادتی کانشانہ بنایا اور اُس کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

اسی طرح پنجاب کی تحصیل مظفر گڑھ میں جون کے مہینے میں ہی افسوس ناک واقع پیش آیا، جب ڈکیتوں نے بچوں کے سامنے ماں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔متاثرہ خاتون کے شوہر کے مطابق 3 ڈاکوؤں نے بچوں کے سامنے میری بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور با آسانی فرار ہوگئے۔

اسی قسم کا واقعہ اٹک کے علاقے فقیر آباد میں بھی پیش آیا، جب 10 سالہ بچی کوجامع مسجدکے امام نے زیادتی کا نشانہ بناکر اُس کو قتل کردیا۔ قتل کرنے والا ملزم اکرام جو کہ حافظ قرآن بھی ہے، پولیس نے گرفتار کرلیا۔امامِ مسجد بچی کو قرآن پڑھانے کیلئے جاتا تھا۔

حال ہی میں ایک واقعہ پنجاب میں بھی پیش آیا، جب خاتون کرکٹر کو اُس کے سابق شوہر نے دوستوں کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اُس کی ویڈیوز بھی بنائیں۔

لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اپنے استاد پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا جس پررواں برس جولائی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔ طالبہ کے مطابق استاد نے قابلِ اعتراض حالت میں اسے ویڈیو کال کی۔ اگر اساتذہ طلباء کے ساتھ ایسی حرکتیں کریں گے تو ملک کا مستقبل کیسا ہوگا؟ یہ ہم خود سوچ سکتے ہیں۔

اِن واقعات کا ذمہ دار کون؟

معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم جنسی زیادتی کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی تو بہت بعد میں دکھاتے ہیں پہلے اس پر فضول اور گھٹیا قسم کے سوالات کا انبار لگادیتے ہیں کہ تم رات کے اُس پہر اکیلے کیوں نکلی تھی، تم نے اپنی بیٹی کو اکیلے بازار یا گلی میں کیوں نکلنے دیا، تم نے کس طرح کے کپڑے پہنے تھے، تمہیں بچی کو اکیلے گھر میں کزنز کے ساتھ چھوڑنا ہی نہیں چاہیے تھا، یہ اور اسطرح کے باقی تمام سوالات جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچے، بچیوں، عورتوں کے زخموں پر مرہم کے بجائے نمک لگانے کے مترادف ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی جنسی زیادتی کا ذمہ دار عورتوں کو ہی ٹھہرایا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ زیادتی کے واقعات اس لئے ہوتے ہیں کیونکہ عورتیں بے پردہ ہوتی ہیں۔

عمران خان کے مطابق اگر عورتیں پردہ کردیں تو اس قسم کے واقعات نہیں ہونگے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی باپردہ خاتون جنسی زیادتی کا نشانہ بن جائے تو اُس کا ذمہ دار کون ہوگا، کیا پردے کا حکم صرف عورتوں کیلئے ہی ہے مردوں کیلئے کوئی حکم نہیں ، یاد رہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ

”اگر تم میرے ساتھ یہ وعدہ کرو کہ جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولے، جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے، ہر حال میں اپنے وعدے کی پاسداری کرے، اپنی نگاہوں کو نیچی رکھے، اپنے ہاتھوں کو روکے رکھے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرے تو میں تمہارے لئے بہشت کا ضامن ہوں”۔

خیال رہے کہ جنسی زیادتی سے عورت کے لباس کا کوئی تعلق نہیں ہے،ریپ کرنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ وہ جس کا ریپ کررہا ہے وہ باپردہ ہے یا نہیں، اسے جب جہاں جس کے ساتھ بد فعلی کرنی ہو وہ کرجاتا ہے نہ جگہ دیکھتا ہے نہ موقع نہ لباس، نہ اپنا رشتہ اسکا مقصد اپنے اندر پیدا ہونے والی ہوس کی آگ کو بجھانا ہوتا ہے جو وہ کسی کی عزت کو داغدار کرکے بجھا ہی لیتا ہے۔یہاں تک وہ مردے کو بھی قبر میں نہیں چھوڑتا۔

جرم کے ثبوت پر ایک تکلیف دہ حقیقت

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ قوم کی کسی بیٹی، ماں یا بہن کو کوئی اوباش شخص خدانخواستہ زیادتی کا نشانہ بنائے تو وہ انصاف کیسے حاصل کرے گی؟

تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ زیادتی کا شکار خواتین عموماً یہ بات زبان پر لائے بغیر چپ چاپ ظلم سہتی رہتی ہیں جبکہ اسلام نے ہمیں سمجھایا ہے کہ ظلم سہنا ظالم کو مزید طاقتور اور کمزور کو مزید پستی کی طرف دھکیلتا ہے۔

ریت میں منہ چھپالینے سے حقیقت نہیں بدل سکتی تاہم مشرقی خواتین کی اکثریت زیادہ تر کیسز میں بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں۔

حکومت کو کونسے اقدامات کرنے چاہئیں

کسی بھی ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرے۔ ایک عورت کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ بلا خوف و خطر سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جائے اور اسے کوئی چور، لٹیرا یا زناکار ہاتھ تک نہ لگا سکے۔

نبی اکرم ﷺ کے دور میں جب کسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی تھی تو وہ آپ ﷺ سے شکایت کرتی اور اس پر انصاف حاصل کرتی تھی لیکن کوئی صحابی اسے یہ مشورہ نہیں دیتا تھا کہ تم نے جرم کی شکایت کیوں کی؟ تمہیں خاموش ہوجانا چاہئے تھا لیکن آج ہم اسلام کے نام پر ہی خواتین کو جنسی ہراسگی چپ چاپ سہنے کا مشورہ دے کر خود کو بہترین مسلمان ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔

بطور مسلمان اور پاکستانی شہری ہمارا یہ اوّلین فرض ہے کہ خواتین اور بچوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ یہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہماری ہی عزت و ناموس اور ہمارے ہی ملک کا وقار اور مان ہیں۔

ریاست کا فرض ہے کہ وہ جنسی زیادتی اور ہراسگی سمیت ہر جرم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکےاور ایسے قبیح عمل کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دے کہ دوبارہ کوئی ایسا کرنے کا سوچے بھی نہیں۔

ملک کا عدلیہ کا نظام بھی اس حوالے سے بہتر بنانا چاہیے تاکہ کوئی بھی مظلوم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے ہچکچائے نہیں کیونکہ اکثر واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ جس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس پر عدالتی کارروائی کے دوران سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کیس کو ہی واپس لے لیتا ہے۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں
Exit mobile version