بھارت کے وسطی علاقے میں واقع ایک پاور پلانٹ میں منگل کے روز ہونے والے دھماکے نے ہلاکت خیز صورت اختیار کر لی جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک صنعتی یونٹ میں پیش آیا جہاں اچانک زور دار دھماکہ ہوا۔
افسوسناک واقعہ ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع سکتی میں واقع اس پلانٹ میں پیش آیا جو ویدانتا لمیٹڈ کے زیرِ انتظام چل رہا ہے جو کہ لندن میں رجسٹرڈ ویدانتا ریسورسز کی ذیلی کمپنی ہے۔ ریاستی وزیر صنعت لکھن لال دیوانگن نے میڈیا کو بتایا کہ بوائلر پھٹنے کے باعث 24 مزدور شدید متاثر ہوئے جن میں سے 14 موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
JUST IN: At least 9 people have lost their lives and 15 others are injured following a boiler explosion at a Vedanta power plant in Singhitarai, Chhattisgarh, India. pic.twitter.com/u2kWMgUHAx
— Weather Monitor (@WeatherMonitors) April 14, 2026
ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس سانحے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
10 Killed, 40 Injured As Boiler Explodes At Vedanta Power Plant in Chhattisgarh. pic.twitter.com/aDMQRttcB5
— Lucifer ଲୁସିଫର୍ (@krishnakamal077) April 14, 2026
دوسری جانب کمپنی کے سربراہ بھارتی نژاد ارب پتی انیل اگروال کے زیر کنٹرول ویدانتا کی جانب سے فوری طور پر اس حادثے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بھارت میں صنعتی حادثات اکثر حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد میں کوتاہی اور کمزور نگرانی کے باعث پیش آتے رہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی مغربی بھارت میں ایک آتش بازی کے کارخانے میں آگ لگنے سے 17 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جس نے صنعتی حفاظت کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چھتیس گڑھ کے اس دھماکے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








