دنیا بھر کے ہونہار طلبہ برطانیہ کا خصوصی ورک ویزا کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دنیا بھر کے ہونہار طلبہ برطانیہ کا خصوصی ورک ویزا کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

برطانوی حکام نے دنیا کی بہترین جامعات سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو نئی پالیسی کے تحت ورک ویزہ دینے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دنیا کی ممتاز جامعات سے گریجویشن مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مستقبل کا آغاز کرنے کیلئے برطانیہ نے نئی ورک ویزہ اسکیم متعارف کرائی ہے۔

یہ اسکیم کیا ہے؟

برطانوی حکام نے کہا ہے کہ ‘ہائی-پوٹینشل انڈیویجوئل’ یعنی ممکنہ اعلیٰ ذہن والے افراد والا ویزا گزشتہ پیر یعنی 30 مئی سے شروع کیا گیا ہے اور اس ویزے کے تحت دنیا کے سب سے زیادہ ذہین طلبہ کو راغب کیا جاسکے گا۔ یہ اسکیم صرف وہی لوگ لے سکتے ہیں جنہوں نے برطانیہ سے باہر کسی ملک سے پچھلے پانچ سالوں میں گریجویشن کیا ہو۔

ویزے حاصل کرنے والے تمام لوگوں کو دو سال کا ورک ویزا ملے گا اگر ان کے پاس بیچلر یا ماسٹرز ڈگری ہے اور اگر ان کے پاس ڈاکٹریٹ ہے تو تین سال کا ویزا دیا جائے گا۔ اگر وہ کچھ ضروریات کو پورا کرتے ہیں تو اس کے بعد وہ دوسرے طویل مدتی کام کے ویزوں پر جانے کے اہل ہو جائیں گے۔ برطانیہ کی جانب سے اہل گریجویٹس کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

کن یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ اسکیم حاصل کرسکتے ہیں؟

اس اسکیم کو کوالیفائی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فارغ التحصیل طلبہ نے کسی ایسی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہو جو کہ سال میں کم از کم تین میں سے دو درجہ بندی میں ٹاپ 50 میں شامل ہو۔ ان تین فہرستوں میں سے کسی دو میں اگر یونیورسٹی کا نام ہے تو وہاں کے طلبہ کو ویزا دیا جائے گا۔

جو ادارے ان یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرتے ہیں اُن کے نام یہ ہیں،Times Higher Education World University Rankings, Quacquarelli Symonds World University Rankings اور Academic Ranking of World Universities.

ویزا کے مکمل اخراجات کتنے ہونگے؟

برطانوی ورک ویزے کو حاصل کرنے کی مکمل لاگت 715 پاؤنڈ یا 905 امریکی ڈالر ہوگی، علاوہ ازیں امیگریشن ہیلتھ سرچارج بھی واجب الادا ہوگا۔

معلوم رہے کہ جو بھی اہل گریجویٹس ہونگے وہ اپنے اہل خانہ کو اپنے ساتھ لاسکیں گے، حالانکہ ان کے پاس کم از کم 1270 پاؤنڈ یا 1606 امریکی ڈالر سے زیادہ رہائشی فنڈ ہونے چاہیے۔

طلبہ کے پاس کونسے سرٹیفکٹس ہونے چاہئیں؟

برطانوی ورک ویزے کو حاصل کرنے کیلئے طلبہ کو سکیورٹی اور کرائم چیک پاس کرنے کی بھی ضرورت ہوگی اور اُن کے پاس کم از کم انٹرمیڈیٹ لیول یا بی ون تک انگریزی زبان کا سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہوگا، جس کی تعریف ‘مقامی انگریزی بولنے والوں کے ساتھ آسانی سے بات چیت کرنے کی روانی’ کے طور پر کی گئی ہے۔

نیا ویزا ان اقدامات کے پیکج کا حصہ ہے جس میں غیر ملکیوں کو اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد ملک چھوڑنے کی بجائے دو سال تک برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔

کیا پاکستان طلبہ یہ ویزا حاصل کرسکتے ہیں؟

جب سے برطانیہ کی جانب سے اس ویزے کا اعلان کیا گیا ہے اکثریت یہی سوچ رہی ہے کہ کیا اس میں پاکستان کی کوئی یونیورسٹی شامل ہے؟

جو یونیورسٹیز اس فہرست میں شامل ہیں اُن میں پاکستان کی کوئی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔ جن ممالک کی یونیورسٹیز شامل ہیں اُن میں جرمنی، فرانس، آسٹریلیا اور سویڈن کی ایک ایک، کینیڈا کی تین جبکہ چین، ہانگ گانگ، سوئٹزر لینڈ، سنگاپور اور جاپان کی دو دو یونیورسٹیاں ہیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں