گورنر اسٹیٹ بینک نے مرکزی بینک اور ایف پی سی سی آئی کی مشترکہ کمیٹی کا اعلان کردیا

گورنر اسٹیٹ بینک نے مرکزی بینک اور ایف پی سی سی آئی کی مشترکہ کمیٹی کا اعلان کردیا

کراچی: بینک دولتِ پاکستان کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے مشترکہ کمیٹی کے قیام کے اعلان اور وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے لیے ایس بی پی لائژن آفیسر مقرر کردیا ہے تاکہ کاروباری برادری کی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جاسکے۔ یہ اعلان انہوں نے ادارے کی انتظامیہ کی دعوت پر ایف پی سی سی آئی کے دورے کے موقع پر کیا۔

قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید کی زیرِ قیادت سینئر مینجمنٹ بشمول ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین اور ڈپٹی گورنر محترمہ سیما کامل اور دیگر نے ایف پی سی سی آئی کا دورہ کیا۔ جس کا مقصد موجودہ معاشی چیلنجز اور حکومت اور اسٹیٹ بینک کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

مرتضیٰ سید نے عالمی اور ملکی واقعات کے باعث درپیش چیلنجوں کو برداشت کرنے پر کاروباری برادری کو سراہا اور اسٹیٹ بینک کی طرف سے ان کے خدشات دور کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔

قائم مقام گورنر نے اپنے خطاب میں شرکا کو آگاہ کیا کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف کی سطح کا معاہدہ پہلے ہی طے پاچکا ہے اور بورڈ کی سطح کی منظوری اگست کے تیسری ہفتے میں متوقع ہے کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے بورڈ کا اجلاس ماہِ اگست میں تعطیلات ختم ہونے کے بعد ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ فی الوقت فاریکس مارکیٹ میں روپے کی قدر کم اور ڈالر کی قدر زیادہ ہے جس کی کئی وجوہ ہیں، تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ 2 سے 3 ماہ میں یہ کم ہوکر حقیقی قدر پر واپس آجائے گی۔

انہوں نے موجودہ معاشی حالات، زرمبادلہ اور دیگر متعلقہ امور پر تجاویز دینے کے لیے کاروباری برادری کو اسٹیٹ بینک کے ساتھ تعمیری مشاورت کے لیے کام کرنے کی دعوت دی۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کے لیے مالی دستاویزات کی کلئیرنس کے حوالے سے پیشگی منظوری کی تکنیکی شرط پر بھی غور وخوض کی یقین دہانی کرائی، جس میں کنسائمنٹ کے کوڈز 84 اور 85 سے شروع ہوتے ہیں، کیونکہ ان شرائط کی وجہ سے ٹریکٹر کے پُرزوں اور دیگر زرعی مشینری کی درآمدات متاثر ہورہی تھی۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر جناب عرفان اقبال شیخ نے اپنے ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر مرتضیٰ سید اور مرکزی بینک کی سینئر انتظامیہ کا ایف پی سی سی آئی کا دورہ کرنے پر خیرمقدم کیا۔انہوں نے موجودہ کاروباری حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کا نقطہء نظر پیش کیا۔

انہوں نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک سے گذشتہ چند ہفتوں میں ڈالر کی قیاس آرائیوں پر مبنی خریدوفروخت پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک کے دائرہ اختیار میں پالیسی اقدامات کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہاکہ قیاس آرائیوں اور ڈالر کی عدم دستیابی کی وجہ سے درآمد کنندگان اور اشیا سازوں کو خام مال کی کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں پیداواری عمل میں تعطل آیا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے کمرشل بینک انٹر بینک کے ریٹس سے زیادہ پر ایل سیز کی پیشکش کررہے ہیں، انہوں نے درخواست کی کہ اسٹیٹ بینک اس کی درستی کے لیے اقدامات کرے۔

اسٹیٹ بینک کے ایک سینئر عہدیدار نے بالعموم کاروباری اداروں اور بالخصوص برآمد کنندگان کو دی جانے والی معاونت پر روشنی ڈالی۔ اسٹیٹ بینک نے گذشتہ چار برسوں کے دوران قلیل مدتی برآمدی نومالکاری کی حد 432 ارب روپے سے بڑھا کر 857 ارب روپے کر دی جو تقریباً 100 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

اسی طرح، برآمد کنندگان کے لیے اسٹیٹ بینک کی طویل مدتی معین شرح مالکاری (ایل ٹی ایف ایف) کا بقایا ذخیرہ بھی گذشتہ تین برسوں کے دوران 209 ارب روپے سے بڑھ کر 329 ارب روپے تک ہوگیا ہے جو 57 فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ فیڈریشن نے تسلیم کیا کہ کووڈ 19 کے دوران عارضی اقتصادی نومالکاری سہولت(ٹرف) کے ذریعے سرمایہ کاری کو تحریک دینے اور معیشت کو فروغ دینے میں بڑے پیمانے پر مدد ملی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بیشتر کاروباری اداروں نے 5فیصد کی زیادہ سے زیادہ حد سے بہت کم شرحوں پر ٹرف کی سہولت سے استفادہ کیا۔ ٹرف کی زبردست کامیابی سے ظاہر ہوا کہ یہ ملک میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے خلا کو پر کرنے میں کامیاب رہی۔ اس سہولت کے تحت 628 کاروباری اداروں کے لیے 436 ارب روپے کی رقم منظور کی گئی۔

اجلاس کے دوران ایف پی سی سی آئی کے ارکان نے کچھ سوالات کیے جن کا اسٹیٹ بینک کی سینئر انتظامیہ نے جامع جواب دیا اور ایف پی سی سی آئی کے ارکان کو یقین دہانی کروائی کہ مرکزی بینک کی سینئر انتظامیہ ان کے مسائل سننے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہمیشہ موجود رہاہے۔

قابل تجدید توانائی کے لیے اسٹیٹ بینک کی نومالکاری سہولت کی میعاد ختم ہونے سے متعلق ایک سوال پر، فیڈریشن کو بتایا گیا کہ اسکیم میں جون 2024ء تک توسیع کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ میں 877.26 پوائنٹس کی تیزی

آخر میں صدر ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کو چند تجاویز پیش کیں۔ گورنر (قائم مقام) نے ان تجاویز کی خوبیوں پر غور کرنے اور ان کے بارے میں جلد فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کی۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں
تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں