میرپورخاص میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی مبینہ خودکشی کے بعد پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جن میں ایک کالج کے پرنسپل، ان کی اہلیہ، ایک لیکچرار اور دو طلبہ شامل ہیں۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر ہراسانی اور ادارہ جاتی دباؤ کے الزامات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ طالبہ فہمیدہ لغاری کی موت کے حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ہراسانی اور خودکشی پر اکسانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے میں نامزد افراد میں کالج کے پرنسپل تنویر عالم، ان کی اہلیہ پروفیسر فرزانہ، فارمیسی کے لیکچرار عابد لغاری اور دو طلبہ شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ مرحومہ طالبہ کے چچا کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ لیکچرار اور دو طلبہ طالبہ کو بلیک میل کر رہے تھے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی متعدد بار اطلاع کالج کے پرنسپل اور ان کی اہلیہ کو دی گئی، تاہم انہوں نے کارروائی کرنے کے بجائے طالبہ پر شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔
شکایت کے مطابق جب طالبہ نے الزامات واپس لینے سے انکار کیا تو اسے کالج سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں اور مزید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے واقعے پر سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے اور سندھ حکومت سے شفاف اور تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ متعلقہ کالج کے مکمل ریکارڈ کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
کونسل کے صدر پروفیسر رضوان تاج نے طالبہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہراسانی کے الزامات کی سخت مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو میڈیکل کالج کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور ذمہ دار فیکلٹی ممبران اور ادارے دونوں کے خلاف سخت قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہراسانی، دھمکیوں اور بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں اینٹی ہراسانی کمیٹیاں قائم ہونا لازمی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلبہ براہِ راست کونسل کی ہراسانی کمیٹی میں شکایات درج کرا سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








