امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں انسانی جانوں سے ایک ہولناک کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی سے قبل ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر دوبارہ کھولی نہ گئی تو ایران کے اہم پاور پلانٹس اور پل امریکی فوج کے نشانے پر ہوں گے ، جس سے خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے ان دھمکیوں کو غیر حقیقی قرار دیا ہے اور اسے امریکی شکست و رسوائی چھپانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے، اس کے برعکس پاسدارانِ انقلاب بھی واضح کرچکے ہیں کہ اگر ہماری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خلیجی ریاستوں میں امریکا سے تعلق رکھنے والی کوئی تنصیب سلامت نہیں بچے گی۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنگ اس خطرناک موڑ تک نہیں پہنچنی چاہئے جہاں پورے خطے میں انسانی جانوں کے زیاں کا خطرہ مول لیا جاسکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور 15 نکاتی پلان پر معاہدے کے مطالبات نے ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اگر ایران ان مطالبات پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتا، تو امریکی صدر کی ڈیڈ لائن ختم ہو نے کے ساتھ ہی خطے میں آگ اور خون کی ہولی کھیلے جانے کا قوی امکان ہے۔ اس سے نہ صرف ایران بلکہ امریکی حکومت کے لیے بھی مشکل پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ معاملہ اب امریکا کی عالمی ساکھ،اسرائیلی اثر و رسوخ اور داخلی سیاست کا بھی حصہ بن چکا ہے۔
پاکستان کی ثالثی اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں ہے ، جیسا کہ پاکستان میں ایرانی سفیر نے تصدیق کی، تاہم یہ ایرانی عوام کے مفاد میں نہیں کہ وہ امریکہ کے دباؤ میں آ کر کسی سرینڈر ایگریمنٹ پر دستخط کریں۔ اس کے باوجود تنازعے کا ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں امریکا کو فیس سیونگ مل جائے اور ایران کی عزت و ناموس کو کوئی دھچکا نہ پہنچے، جس سے کچھ پیشرفت کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی اور اسرائیلی افواج کی ایران میں کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تہران اور دیگر شہروں میں حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں، یونیورسٹیوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ایران کے داخلی دفاع اور معاشی انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی صدر نے اپنی حالیہ تقریر میں دعویٰ کیا کہ دو امریکی سپاہیوں کو ایران سے بحفاظت نکال لیا گیا، جسے انہوں نے عالمی سطح پر فوجی کامیابی قرار دیا۔ یہ بیانات حقیقت میں ایران کی عسکری صلاحیت کے بارے میں ایک نظریاتی تأثر قائم کرنے کے مترادف ہیں۔
سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بحرین کو سعودی عرب سے ملانے والے کنگ فہد کازوے پل کو کئی گھنٹے بند کرنا پڑا، جس سے ٹریفک اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ پاسداران انقلاب نے الجبیل اور جُعیمہ میں امریکی کمپنیوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں صدرہ، ایکسن موبل اور دیگر اہم کمپلیکس متاثر ہوئے۔ ان حملوں کو پاسداران کی جانب سے ایران میں اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا جواب بتایا گیا۔
خطے میں کشیدگی کا عالمی پہلو بھی نمایاں ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ قطر پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست ثالثی نہیں کر رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور جنگ جاری رہی تو کوئی فاتح نہیں ہوگا، جبکہ شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابل قبول ہیں۔
بین الاقوامی عسکری و سفارتی منظرنامے میں یہ بھی واضح ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی بقاء کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے تہران کے تین ہوائی اڈوں اور ایران کے بڑے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی خطے میں مختلف اہداف کو میزائل اور ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ نے خبردار کیا کہ ایران کے جوہری پاور پلانٹس کے قریب حملے جوہری حفاظت کے لیے خطرہ ہیں اور انہیں فوری طور پر روکنا ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ حا ل ہی میں روس نے ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹس سے درجنوں روسی ورکرز کو انخلا کی ہدایت کی جبکہ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ملازمین کی تعداد 198 بتائی۔
خطے میں یہ کشیدگی اقتصادی، سیاسی اور انسانی سطح پر ایک پیچیدہ اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے، اور امریکی و اسرائیلی عسکری کارروائیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی سے بھی منسلک ہے۔ اس وقت پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی اور سفارتی کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں اور خدشہ اس بات کا ہے کہ ایران یا امریکا میں سے کسی بھی طرف سے غلطی یا جلد بازی خطے کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب نہ بنے۔ضروری ہے کہ امن اور ثالثی کے اقدامات کو فریقین کی جانب سے بھی اولین ترجیح دی جائے۔ ایران اور امریکا کے درمیان عسکری اور اقتصادی دباؤ کے باوجود، پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں ایک مثبت راستہ فراہم کر سکتی ہیں، بشرطیکہ یہ اقدامات ایران کی خودمختاری اور عزت و ناموس و تکریم کے ساتھ ساتھ امریکا کی فیس سیونگ کو بھی مدنظر رکھیں کیونکہ فوری جنگ بندی، سفارتی مذاکرات، اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی محفوظ ترسیل خطے کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
