نکاح خواں اور گواہ کراچی پولیس کے حوالے، میری جان کو خطرہ ہے۔دعا زہرا

نکاح خواں اور گواہ کراچی پولیس کے حوالے، میری جان کو خطرہ ہے۔دعا زہرا

کراچی: اپنی مرضی سے کراچی سے بھاگ کر پنجاب میں پسند کی شادی کرنے والی کمسن لڑکی دعا زہرا کے نکاح خواں اور گواہ کو جعلی نکاح کے جرم میں گرفتار کرکے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا۔ دعا زہرا کا کہنا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق دعا زہرا کے نکاح پڑھانے والے اور گواہ کو سمن آباد پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ پنجاب پولیس نے دونوں ملزمان کو راہداری ریمانڈ پر سندھ کے حوالے کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

راولپنڈی پولیس کا منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن، 5ملزمان گرفتار

پنجاب پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ گواہ اور نکاح خواں نے دعا زہرا کا بوگس نکاح پڑھایا اور اس کی جھوٹی گواہی دی۔ ملزمان کو عدالت میں پیشی کے بعد سندھ کے حوالے کیا گیا ہے۔

کمسن لڑکی دعا زہرا کا اپنی عمر کے متعلق کہنا ہے کہ میں بالغ ہوں تاہم لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کی عمر 14سال بتائی۔ والدہ  کا کہنا تھا کہ جب میرے نکاح کو 18سال نہیں ہوئے تو بیٹی بالغ کیسے ہوسکتی ہے؟

کچھ روز قبل ہی دعا زہرا نے الزام عائد کیا تھا کہ سندھ پولیس مجھے کراچی لے جانے کیلئے اغوا کرنا چاہتی ہے۔ میں نے ظہیر سے پسند کی شادی کی۔ اگر کچھ ہوگیا تو ہمارے والدین اور پولیس ذمہ دار ہوگی۔ 

دعا زہرا کی عمر پر تفتیش کراچی پولیس کے حوالے کردی گئی۔ کمسن لڑکی دعا زہرا نے کہا کہ مجھے سندھ اور پنجاب پولیس ہراساں کر رہی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے خدشات لاحق ہیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں