حکومتی کوششوں کی وجہ سے ڈ الر نیچے آیا، مفتاح اسماعیل

حکومتی کوششوں کی وجہ سےڈ الر نیچے آیا، مفتاح اسماعیل

کراچی: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کی وجہ سے ڈالر میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، حکومتی کوششوں کی وجہ سے ڈالر نیچے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی چیمر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں چینج کرنا پڑیں گے، دنیا سے قرض لینا مشکل بھی ہوگیا اور شرم بھی آتی ہے، دنیا بھی کہتی ہوگی یہ کسطرح ملک چلارہے ہیں، کبھی کسی سے فون کروالو، کبھی کسی سے فون کروالو۔

انہوں نے کہا ہم نے 450 ملین ڈالر واپس نہیں کیے تو دینے والے سے مزید مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔ 1996 سے آج تک 450 ملین ڈالر واپس نہیں کرسکے۔ آئی ایم ایف کی فنڈنگ سے متعلق کافی پیشرفت کی ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 80 ارب ڈالر کی درآمدات اور 30 ارب کی برآمدات ہوئیں۔ معیشت کی بہتری کیلئے لگژری اشیاکی درآمد پر پابندی لگائی، ماضی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا رہا۔ ہم گروتھ کرتے ہیں پھر برسٹ ہو جاتے ہیں۔ ہم ایکسپورٹ نہیں کر پارہے۔ دنیا بھرمیں شرح سود میں اضافہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:

پاکستان میں آن لائن ملازمت کے کون کون سے طریقے دستیاب ہیں؟ جانیے

انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کو فکس ٹیکس ڈالا تھا، میری غلطی تھی۔ جو دکانیں بند ہوں گی، بہت چھوٹی دکانیں ہیں، وہ کہاں سے پیسے دے سکے ۔ فکس ٹیکس سے ہٹ گئے ہیں، ویری ایبل ٹیکس پر چلے گئے ہیں۔ ابھی وہی ٹیکس ہے جو پہلے تھا۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 42 ارب کا ہمارا ٹیکس ہدف تھا۔ اب 42 ارب سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، لیکن ٹیکس تو جمع کرنا ہے تاکہ یہ ملک چلتا رہے، اب 33 ارب کا ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کی وجہ سے ڈالرمیں اتارچڑھاؤ آتا ہے۔ حکومتی کوششوں کی وجہ سے ڈالر نیچے آیا۔ بیرونی ادائیگیوں سے توازن خراب ہو گیا تھا۔ خسارہ کم کرنے کے لیے خریداری کم کررہا ہوں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات بھی پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ایل سیزکھول دی گئی ہیں۔ آج تک کوئی ادائیگی روکی نہ ہی روکیں گے۔ ہم دبئی سے سستا پیٹرول بیچ رہےہیں۔ 5 سے 6 ارب ڈالر کا خوردنی تیل رواں سال درآمد کرنا پڑے گا۔ ایل این جی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ کورونا کے دوران سستی ایل این جی مل رہی تھی مگر کسی نے معاہدہ نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آج 25 ہزار میگاواٹ کے قریب بجلی بنتی ہے۔ نواز شریف نے بجلی ڈبل کر دی تھی۔ جون ٓ، جولائی میں 5،5 ہزار میگا واٹ شارٹ تھے۔ جب ہم نے بجلی ڈبل کی، کیا پاکستان میں امپورٹ یا ایکسپورٹ ڈبل ہوئی؟جب چھوڑ کر گئے گندم ایکسپورٹ کر رہے تھے، اب امپورٹ کر رہے ہیں۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں
تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں