وارننگ کو دعوت نامہ سمجھنے والے

رعایت اللہ فاروقی


کالم نگار سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر گلی میں ماہرین پائے جاتے ہیں اور ماہرین بھی ہر شعبے کے حتیٰ کہ ان چیزوں کے بھی جنہیں سائنس نے ابھی وجود بخشا بھی نہیں بلکہ ایجاد کا بس امکان ہی ظاہر کیا ہے۔

آپ کسی بھی بیماری کا ذکر کیجئے۔ آپ کو اس کے علاج کے وہ وہ نسخے بتائے جائیں گے جو طبیبوں نے بھی نہ سنے ہوں گے اور بتانے والے کے لہجے کا اعتماد اس بلا کا کہ کچھ دیر کے لئے تو طبیب حاذق بھی یقین کر بیٹھے۔

پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جن پر تقویٰ کا خاصا غلبہ رہتا ہے۔ ایسوں کی مہارت کا اظہار کچھ یوں ہوتا ہے “آپ کو توبہ استغفار کرنی چاہئے، لگتا ہے خدائی پکڑ ہے” یہ خدائی پکڑ کا معاملہ ان معاملات میں سے ہے جو ہے تو خالص خدائی لیکن ہمارے مذہبی طبقے کے بیشتر افراد اس باب میں خدائی ترجمانی کا منصب سنبھالے بیٹھے ہیں۔

کوئی دس بارہ برس ادھر کی بات ہے۔ اوپر تلے مولانا فضل الرحمان کے خلاف کچھ کالم لکھ دئیے۔ انہی دنوں کسی وجہ سے اس اخبار سے تعلق ختم ہوگیا۔ یہ خبر پاتے ہی ایک “استاد الحدیث” نے فرمایا “یہ خدائی پکڑ ہے۔ وہ ایسے گستاخوں کی روزی تنگ کردیتا ہے” اگلے ہی مہینے میں ایک بڑے چینل کے نہایت معروف پروگرام کا حصہ تھا۔

یعنی روزی مزید کشادہ ہوگئی تھی۔ اسی طرح آپ کرکٹ کے ماہرین دیکھ لیجئے۔ پاکستان کے کسی بھی اہم میچ کے دوران آپ کسی بھی ٹی وی کے آگے بیٹھے افراد کے بس تبصرے سنتے جایئے، بالخصوص اگر ہماری ٹیم ہار جائے۔

آپ کو کسی بھی ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے افراد یہ بتا سکتے ہیں کہ میچ ہارنے کی اہم وجوہات کیا کیا تھیں اور ان کا تدارک کس کس طرح ہوسکتا تھا اور یہ کہ اگر وہ کپتان ہوتے کس آسانی سے میچ جیت کر دکھا دیتے۔

ان کی جذباتی حالت دیکھ کر آپ ایک منٹ میں یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہماری ٹیم کے پاس بس ایک ہی کمی تھی اور یہ کہ یہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے موصوف پاکستانی ٹیم کے کپتان نہ تھے۔ ویسے یہ کوئی برا آئیڈیا نہ ہوگا کہ پی سی بی آٹھ دس ٹیمیں ان گھریلو ماہرین کی بھی بنا کر سال میں نہ سہی تاریخ میں ایک بار ان کا پی ایس ایل بھی کروا لے۔

اس پی ایس ایل کو تاریخ کرکٹ کامیڈی کے نام سے ضرور جگہ دے گی۔ طب، مذہب اور کرکٹ کے گھریلو ماہرین کی بھرمار اپنی جگہ مگر سب سے زیادہ ماہرین ہمارے ہاں سیاست کے پائے جاتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے ہمارا یہ شکوہ درست کہ وہ سیاست میں ناروا مداخلت کرتی ہے۔

مگر ایک بات کے لئے ہمیں ان کا شکر گزار ہونا پڑے گا اور وہ یہ کہ اس نے ایسے گھریلو سیاسی ماہرین کو سیاسی جماعت کی صورت ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے نہ صرف یکجا کردیا ہے بلکہ اقتدار کے ایوان تک بھی پہنچا دیا ہے۔ سو نتیجہ خود بتا رہا ہے کہ حکومت گھریلو ٹوٹکوں والوں کی ہی ہے۔

اب ذرا کچھ تقابل ان اپنے ان گھریلو ماہرین کا باقی دنیا کے عام شہریوں سے کر لیتے ہیں جس سے اندازہ ہوجائے گا کہ مری واقعہ کیوں پیش آیا۔ جب کسی بھی ملک کا محکمہ موسمیات یہ اعلان کردے کہ سمندری طوفان کی آمد متوقع ہے تو ساحلی شہر کے لاکھوں شہری اپنے گھروں کی کچی کھڑکیوں یا دروازوں کی مرمت کرواتے ہیں۔

بیشتر تو بڑے بڑے پھٹے کھڑکیوں پر میخوں سے ٹھکوا دیتے ہیں۔ کھانے پینے کا ضروری سامان بھی مناسب مقدار میں گھر پر ذخیرہ کر لیتے ہیں کہ اگر طوفان کے نتیجے میں سپلائی لائن کچھ دن کے لئے کٹ جائے تو بھوک سے نہ مرنا پڑے۔

ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ کا سامان بھی گھر پر رکھ لیا جاتا ہے۔ آخری کام وہ یہ کرتے ہیں کہ گاڑی کا پٹرول ٹینک فل کروا لیتے ہیں۔ پٹرول کے سوا باقی ساری چیزیں اس صورت کے لئے جمع کی جاتی ہیں کہ اگر حکومت شہر خالی کرنے کا نہ کہے۔ ورنہ تیاری شہر خالی کرنے کی بھی رکھی جاتی ہے اور گاڑی کا ٹینک اسی کے لئے فل کروایا جاتا ہے اور یہ تیاری تقریباً ہر شہری ہی رکھتا ہے۔

اس پوری صورتحال میں وہ مقام جہاں سے شہری تقریباً غائب ہوجاتے ہیں ساحل ہوتا ہے۔ ساحل پر بس ساحلی پولیس کے چند درجن اہلکار ہی نظر آتے ہیں اور وہ بھی صرف اس امکان کو پیش نظر رکھ کر کہ کہیں کوئی پاکستانی ٹائپ کا گھریلو ماہر اس طرف نہ نکل آئے، ورنہ ساحل پر سناٹا ہی ہوتا ہے۔ طوفان والے روز لوگ گھروں میں دبکے ٹی وی پر خود کو اپڈیٹ رکھتے ہیں اور دوسرے شہروں کے افراد اس شہر کا سفر منسوخ کر دیتے ہیں۔

اس طرح کی صورتحال میں حکومت اور سرکاری اداروں کا مرکزی کام شہریوں کو باخبر رکھنا ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی بڑی قدرتی آفت کی صورت میں نوبت “اپنی مدد آپ” کی ہوتی ہے۔ لاکھوں یا کراچی کی طرح کروڑوں کی آبادی رکھنے والے شہر کے باسیوں کو سرکار کے چند ہزار اہلکار نہیں سنبھال سکتے۔ سرکاری اہلکار ایسی صورتحال میں بس ان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جو فوری خطرے سے دوچار ہوں۔

مثلا سیلابی صورتحال میں جن کا گھر دس سے پندرہ فٹ پانی میں ڈوب چکا اوروہ گھر کی چھت پر کھڑے ہیں۔ یہ پہلی ترجیح نہیں بنتے بلکہ پہلی ترجیح وہ بنتے ہیں جو ڈوب رہے ہیں چنانچہ ہم امریکہ جیسے باوسائل ملک میں دیکھ چکے کہ بڑے سمندری طوفانوں کا سامنے حکومتی نظام بے بس ہوکر رہ گیا۔ شہریوں کو ریسکیو کرنے میں کئی کئی دن لگ گئے۔

لیکن یہ سب تو ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ہر گھر میں ہر فن مولا ہستیاں نہیں پائی جاتیں۔ ہمارے ہاں تو ارسطو اور افلاطون کے بھی ابو جی ہر گلی میں موجود ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری ادارے کی وارننگ کو “دعوت نامہ” سمجھ کر قدرتی آفت سے قریب جا کر روبرو ہونے کی تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں۔

مثلا محکمہ موسمیات سمندری طوفان کی پیشگوئی کردے تو کراچی والے ایک دوسرے کو دیکھ کر کہتے ہیں “چلیں ساحل پر ؟” یہ تو طے ہے کہ یہ سوال پوچھنے والے گھریلو ماہر رشتے میں ارسطو کے ابا جی لگتے ہیں مگر ضروری نہیں ہوتا کہ ارسطو کے اباجی کے مخاطب افلاطون کے ہی ابا حضور ہوں۔ بہت کم تعداد میں سہی مگر وہ بیوقوف ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں جن کا نظریہ ہے کہ وارننگ دعوت نامہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر مخاطب ساحل پر جانے سے انکار کردے تو پھر افلاطون کے کچھ مزید ابے تلاش فرمائے جاتے ہیں۔

یوں سندھ حکومت کی ایک اضافی ذمہ داری یہ بھی بن جاتی ہے کہ عوام کے جم غفیر کو ساحل تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ساحل کی داخلی سڑکوں پر کنٹینر رکھ کر انہیں بلاک کردے۔ اب یہ کنٹینر رکھنے کی نوبت کیوں آتی ہے ؟ کیوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس سڑک کے داخلی روستے پر ایک پولیس موبائل کھڑی ہو جو کسی اکا دکا آنے والے کو واپس جانے کا کہدے تو وہ واپس چلا جائے ؟ کیونکہ آنے والے اکا دکا نہیں ہوتے۔ یہ تو ہجوم کی صورت آتے ہیں۔ ان کنٹینروں کا ایک اضافی فائدہ البتہ یہ ہوچلا ہے کہ ان کا سن کر ہی اب محکمہ موسمیات کا دعوت نامہ پانے والوں کی بڑی تعداد ساحل کا رخ نہیں کرتی۔

یہی صورتحال مری کے حالیہ واقعے میں ہوئی۔ موقع نہ تو عید کا تھا، نہ ہی کسی قومی دن کا۔ پھر بھی ایک لاکھ گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں تو کیوں ؟ کیونکہ محکمہ موسمیات نے وارننگ جاری کردی تھی کہ 7 تاریخ کو شدید برفباری کا امکان ہے۔

وارننگ کو دعوت نامے کا درجہ دینے والوں کی ایک لاکھ گاڑیاں تو وہ تھیں جو مری میں داخل ہوگئیں جبکہ لگ بھگ اتنی ہی گاڑیاں وہ تھیں جو مری میں داخل نہ ہوسکیں مگر اس امکان پر کھڑی رہیں کہ شاید داخل ہونے کا موقع مل جائے۔ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ اس طرح کے سیر سپاٹے باقاعدہ گروپ کی صورت ہوتے ہیں۔ کم سے کم بھی چار افراد تو ہوتے ہی ہیں۔ اگر تعداد اس سے بڑھ جائے تو پھر بڑی گاڑی کا انتظام کر لیا جاتا ہے۔ یوں ایک لاکھ گاڑیوں کا مطلب یہ ہے کہ مری جانے والے کم از کم بھی پانچ سے آٹھ لاکھ افراد تھے۔

بات صرف ان آٹھ لاکھ کی نہیں بلکہ وہ بھی لاکھوں میں ہی رہے ہوں گے جو کسی مصروفیت یا مجبوری کی وجہ سے محکمہ موسمیات کی یہ دعوت قبول نہ کرسکے اور یہ بھی وہ لوگ جو مری کے قریبی شہروں یا قصبوں میں تھے۔ ورنہ وہ لوگ بھی ملا لئے جائیں جو دوسرے صوبوں میں ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تو معاملہ کروڑوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں حکومتی غفلت کی بات کرنا ہی پرلے درجے کی حماقت ہے۔

مری کی انتظامیہ ان لوگوں کے لئے ہے جو مری میں رہتے ہیں۔ کیا مری کا کوئی رہائشی کسی انتظامی غفلت کے سبب نقصان سے دوچار ہوا ؟ کیا مری میں کوئی گھر برف میں دبا جس سےمری کے 22 رہائشی جان بحق ہوگئے ؟ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا کہ مری کے چند رہائشی کسی طبی مجبوری کی وجہ سے ہسپتال جاتے ہوئے برف میں پھنس گئے اور انتظامیہ ان کو نہ بچا سکی؟ کیا ایسا ہوا کہ مری کی شاہراہ پر مری کے کسی رہائشی کی گاڑی غیر متوقع طور پر خراب ہوگئی اور اسے برف نے آلیا اور انتظامیہ بروقت اس کی مدد کو نہ پہنچ سکی؟۔

ایک علاقے میں برف جیسی بڑی قدرتی آفت کی وارننگ ہو تو انتظامیہ نے وہاں کے باسیوں کو سنبھالنا ہے یا ان پاگلوں کو جو وارننگ کو دعوت نامے کا درجہ دے کر وہاں ہجوم کردیں ؟ اس پورے معاملے میں ناہلی اگر کسی کی ہے تو ان گھریلو ماہرین کی ہے جنہیں اتنی بھی عقل نہیں کہ قدرتی آفات سے دور رہا جاتا ہے، ان کے راستے میں نہیں آیا جاتا، بلکہ ان کا راستہ چھوڑا جاتا ہے۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں
تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں