غزہ جنگ بندی کے لیے پکار

ایک ماہ قبل اسرائیلی کی جانب سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف انتہائی وحشیانہ نسل کشی کی مہم شروع کی گئی، غزہ کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں دنیا کے سب سے بڑے حراستی کیمپ کے طور پر دیکھ رہی ہیں، غزہ میں جنگ بندی کے مطالبات میں شدت آتی جا رہی ہے کیونکہ غزہ سے باہر آنے والی تکلیف دہ تصویریں ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ محصور غزہ سے آنے والی خبریں گزشتہ چار ہفتوں سے ہر روز خوفناک ہوتی جا رہی ہیں۔ لاشوں سے بھرے پک اپ ٹرک، ملبے سے بچے نکالے جا رہے ہیں۔

پیر کو ایک مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں کے سربراہان نے فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”بہت ہو چکا، اب یہ بند ہونا چاہیے۔ پوری آبادی کا محاصرہ کیا جاتا ہے اور حملہ کیا جاتا ہے، بقا کے لیے ضروری اشیاء تک رسائی سے انکار کیا جاتا ہے، ان کے گھروں، پناہ گاہوں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں پر بمباری کی جاتی ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔“

30 دنوں کے دوران اسرائیل کی بمباری سے 9,500 سے زیادہ فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں، جن میں کم از کم 3,750 بچے اور 2,325 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں شہریوں کا ”مکمل محاصرہ” کر رکھا ہے، ایندھن اور خوراک کے ساتھ ساتھ زندگی کی ضروری اشیا کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے – یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔غزہ کی جنگ بندی کی پکار نہ صرف خونریزی کے خاتمے کا مطالبہ ہے بلکہ فلسطینی عوام کے لیے انصاف، وقار اور امن کی بھی درخواست ہے، جو کئی دہائیوں سے ظالمانہ قبضے اور محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ اسرائیل سے بھی مطالبہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور پڑوسیوں کے انسانی حقوق اور سلامتی کا احترام کرے اور بین الاقوامی قانون اور قراردادوں کی پابندی کرے جو دونوں اطراف کے لوگوں کے جائز حقوق اور خواہشات کو تسلیم کرتے ہیں۔ صرف ایک منصفانہ اور جامع حل جو تنازعہ کی بنیادی وجوہات کو حل کرتا ہے، خطے میں پائیدار جنگ بندی اور پائیدار امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔