سر عام پھانسی کی قرارداد منظور ہونے پر پی ٹی آئی وزراء کے مذمتی بیانات

سر عام پھانسی دینے کی قرارداد پر تحریکِ انصاف کے وزراء کے مذمتی بیانات

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جرائم پر سر عام پھانسی دینے کی قرارداد منظور ہونے پر تحریکِ انصاف کے وزراء نے مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔

قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ سر عام پھانسی دینے جیسے قوانین تشدد پسندی کی علامت ہیں۔ ظلم و بربریت جرائم سے لڑنے کی طاقت نہیں دے سکتی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد قومی اسمبلی میں منظور ہونے پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ قرارداد انتہا پسندانہ سوچ کی عکاس ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں ایم مزاری نے قرارداد کو حدود سے باہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی سرپرستی نہیں کرتی۔ یہ وفاقی وزیر کا انفرادی عمل قرار دیا جاسکتا ہے۔

وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریکِ انصاف کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے بہت سے افراد قرارداد کے خلاف تھے، تاہم میں قومی اسمبلی میں شریک نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) میں معصوم بچوں سے زیادتی اور قتل کے جرائم  پر قرارداد منظور کر لی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بھیانک جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوا جہاں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے قرارداد پیش کی۔

مزید پڑھیں:  بچوں سے زیادتی و قتل پر سرِ عام پھانسی دینے کی قرارداد منظور