اکیس سال قبل خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام سے لاپتا ہونے والا بچہ بالآخر کراچی سے مل گیا۔ معروف سماجی کارکن مولانا ولی اللہ معروف کی کوششوں سے گمشدہ بچے کا خاندان سامنے آگیا۔
مولانا ولی اللہ معروف نے گزشتہ روز اپنے فیس بک پیج پر زاہد کے ورثاء کی تلاش کے لیے ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس کے بعد خاندان تک رسائی ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق تمام دستاویزی اور تصدیقی عمل مکمل کر لیا گیا، جس میں ایف آئی آر سمیت دیگر تمام دستاویزات اور شناختی نشانیاں درست ثابت ہوئیں۔
ان کے مطابق حسن اتفاق سے زاہد کا خاندان بھی کراچی میں مقیم ہے اور زاہد خود بھی اسی شہر میں رہ رہا تھا، تاہم دونوں ایک دوسرے سے لاعلم تھے۔
مولانا ولی اللہ معروف کے مطابق زاہد کی عمر صرف چھ یا سات سال تھی جب وہ سنہ 2005 میں اپنی بہن کے ساتھ بکریاں چرانے گیا۔ واپسی کے دوران وہ بہن سے بچھڑ گیا اور راستہ بھول گیا۔ اسی دوران ایک شخص نے اسے گھر پہنچانے کا بہانہ بنا کر ساتھ لے لیا اور ٹرین کے ذریعے کسی دوسرے شہر منتقل کر دیا۔ بعد ازاں زاہد کو ایک گھر میں بند رکھا گیا، تاہم دو دن بعد موقع ملنے پر وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔
زاہد کے مطابق فرار ہونے کے بعد ایک شخص نے کچھ عرصہ اس کے اہلِ خانہ کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملنے پر اسے ملتان کے ایک شیلٹر ہوم میں چھوڑ دیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق زاہد کو 22 نومبر 2005 کو اس شیلٹر میں داخل کیا گیا تھا، جہاں سے بعد میں اسے ایک اور شہر کے شیلٹر منتقل کر دیا گیا اور اس نے تقریباً بیس سال وہیں گزار دیے۔
اس دوران زاہد نے سخت حالات میں زندگی گزاری اور اب وہ بمشکل ایک جگہ رہائش حاصل کر سکا تھا، جہاں اسے ماہانہ چھ ہزار روپے کے عوض کام دیا جا رہا تھا۔ وہ اپنے خاندان کے افراد کے نام تو یاد رکھتا تھا مگر اپنے شہر اور علاقے کا درست نام نہیں بتا پاتا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








