فلسطینیوں کے حق میں متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کیلئے تمام مکاتب فکر کا اجتماع طلب

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

پوری امت مسلمہ غزہ کے مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، اسرائیل کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آ چکا، مسلم حکمرانوں کو بھی اب خواب غفلت سے بیدار ہو جانا چاہیے۔

ملک بھر میں فلسطینیوں کی حمایت میں ریلیاں، جلسے اور مظاہرے ہوئے مگر پوری قوم کی طرف سے ایک متفقہ بیانیہ اور یکساں آواز بلند کرنے کی ضرورت تھی جس کے پیش نظر 06 دسمبر کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں تمام مسالک، طبقات اور مکاتب فکر کا مشترکہ قومی اجتماع منعقد کیا جا رہا ہے جس سے مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن، سینیٹر ساجد میر، مولانا محمد حنیف جالندھری اور دیگر خطاب کریں گے۔

بھیک مانگنے کیلئے سعودی عرب جانے کی کوشش کرنے والے 9گداگر گرفتار

ان خیالات کا اظہار مجلس اتحاد امت پاکستان کے رہنماؤں مولانا قاضی عبدالرشید،مولانا ظہور احمد علوی، مولانا نذیر فاروقی، مفتی ابو محمد، مولانا عبدالقدوس محمدی، مولانا عبدالکریم، مفتی عبدالسلام اور دیگر نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں قبلہ اول مسجد اقصٰی اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کے حوالے سے بیداری کی لہر پیدا ہوئی ہے، غیر مسلم بھی فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔

علمائے کرام نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے بھی بھرپور انداز میں فلسطینی بھائیوں کی مدد کی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے تمام پاکستانی قوم کی طرف سے متفقہ بیانیہ اور بھرپور پیغام سامنے آنا ضروری تھا جس کے لئے پاکستان کی تمام بڑی مذہبی جماعتوں نے مشترکہ طور پر 06 دسمبر کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں قومی اجتماع کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجتماع کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے اور پوری قوم کی طرف سے اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کو یہ پیغام دیں گے کہ ہم اسرائیلی مظالم کے خلاف آپ کی لازوال جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم مسجد اقصٰی کی آزادی اور فلسطینی بھائیوں کو صہیونیوں کے مظالم سے نجات دلانے کی جدوجہد میں آپ کے شانہ بشانہ ہے اور غزہ میں ہونے والی تباہی پر پوری امت مسلمہ کی طرح مضطرب ہے۔

علمائے کرام کا کہنا تھا کہ قومی اجتماع کو کامیاب بنانے کے لیے تمام مکاتب فکر کے زعماء بھرپور کوشش کر رہے ہیں، یہ اجتماع نہ صرف فلسطینیوں کی حمایت بلکہ وطن عزیز پاکستان میں بھی وحدت فکر اور تمام طبقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس موقع پرمفتی طاہر سلیم نقشبندی، حافظ نصیر، مولانا عبدالرؤف محمدی، مولانا شہزاد عباسی، حافظ عمار یاسر، مولانا تنویر احمد اعوان، مفتی جہانگیر عباسی، مولانا مفتی محمد عبد اللہ، مولانا خلیق الرحمن چشتی، تابش حیدر، مولانا راجہ محمد وسیم اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔

Related Posts