وفاقی حکومت کا بڑا امتحان، وزیرِ خزانہ 8ہزار ارب سے زائد کا بجٹ آج پیش کریں گے

وفاقی حکومت کا بڑا امتحان، وزیرِ خزانہ 8ہزار ارب سے زائد کا بجٹ آج پیش کریں گے

اسلام آباد: تحریکِ انصاف کی وفاقی حکومت کا بڑا امتحان سر پر آگیا، وزیرِ خزانہ شوکت ترین 8 ہزار ارب سے زائد کا بجٹ آج پیش کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت اپنے دور کے تیسرے مالی سال کا بجٹ پیش کرے گی جس کا تخمینہ 8 ہزار 400 ارب لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 800 ارب سے زائد ہوگا۔

قومی اسمبلی میں وزیرِ خزانہ شوکت ترین تیسرے مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے جس میں دفاعی اخراجات کا تخمینہ 1 ہزار 330 ارب روپے ہوگا۔ حکومت قرضوں کی واپسی پر بھی توجہ دے رہی ہے جبکہ سود کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار 100ارب رکھے گئے ہیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

وزیرِ خزانہ کے پیش کیے جانے والے بجٹ میں مالی سال 22-2021ء کیلئے مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 16 فیصد جبکہ جی ڈی پی کا ہدف 4 اعشاریہ 8 فیصد ہوگا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے  کا ہدف 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلاتِ زر کا ہدف 31 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز ہے، گرانٹس کی مد میں 994 جبکہ سبسڈیز کی مد میں 501 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

بجٹ میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 16، افراطِ زر کا 8 فیصد، صنعتی شعبے کی ترقی کا 6.8، مینوفیکچرنگ کی ترقی کا ہدف 6.2 فیصد جبکہ نیشنل سیونگز کا ہدف 15 اعشاریہ 3 فیصد رکھنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 2 ہزار 100 ارب، پی ایس ڈی پی کا حجم 900 ارب ہوگا جس میں سے 244 ارب ٹرانسپورٹ و مواصلات، 91 ارب شعبۂ آبی وسائل، 118 ارب توانائی، سوشل سیکٹر 100 ارب، سائنس و ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کیلئے 31ارب روپے رکھے جایں گے۔

اسی طرح 100 ارب روپے علاقائی مساوات، 68 ارب روپے ایس ڈی جیز جبکہ 17 ارب پروڈکشن کے شعبے کیلئے رکھے گئے ہیں۔ انضمام شدہ علاقوں کیلئے 54 ارب جبکہ سوشل سیکٹرز میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 42 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ کٹھن حالات میں حکومت نے دور اندیش فیصلے کئے، ملکی معیشت بحال ہونا شروع ہوگئی، اور اقتصادی اشارئیے بہتر ہورہے ہیں،ٹیکس وصولیاں 11فیصد زائد ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ روز پاکستان اکنامک سروے 21-2020ء پیش کیا، جس میں گزشتہ مالی سال کے دوران حکومتی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی گئی۔اس موقعے پر معاون خصوصی برائے محصولات وقار مسعود بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: معیشت بہتر ہورہی ہے، ٹیکس وصولیاں 11فیصد زائد ہیں، شوکت ترین