یوکرین کیلئے اربوں کی امداد

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

گزشتہ روز امریکی سینیٹ کی جانب سے یوکرین کیلئے 12 ارب ڈالر کی نئی امداد کی منظوری کا فیصلہ سامنے آیا جبکہ امریکی سینیٹ یہ منظوری پاکستانی وقت کے مطابق 29 اور 30 ستمبر کی درمیانی شب دے چکا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹ نے یوکرین کیلئے جو 12 ارب ڈالر منظور کیے، اس میں سے 3 ارب ڈالر یوکرینی فوج اپنے لیے ہتھیاروں کی خریداری، رسد اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے حاصل کرسکے گی۔

مزید برآں امریکی 12 ارب ڈالر کی یہ امداد یوکرین کے معاشی استحکام کیلئے بھی کام آئے گی جو حکومت چلانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے استعمال کی جائے گی۔ باقی رقم دیگر امور کیلئے مختص کردی گئی۔

واضح رہے کہ امریکا نے یوکرین کو جو بھاری بھرکم امداد دینے کا اعلان کیا ہے، وہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی امریکا ایسے اقدامات اٹھا چکا ہے اور یوکرین کو کھربوں ڈالرز کی امداد دی جاچکی ہے جس کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔

روس نے جب سے یوکرین پر چڑھائی کی ہے، اس کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک بڑھ چڑھ کر یوکرین کی امداد میں مصروف ہیں تاہم روس کا براہِ راست سامنا کرنے سے گریزاں ہیں۔

مئی کے دوران امریکی کانگریس نے یوکرین کی امداد کیلئے 40 ارب ڈالر اور اس سے قبل 13 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کی امداد بھی منظور کی تھی جس کا مقصد روس کو منہ توڑ جواب دینا تھا۔

جنگی محاذ پر روس نے یوکرین پر جو حملہ کیا، اس کی وجہ یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت اور مغربی ممالک کی یوکرین کو شہہ دینا بتائی گئی تھی جبکہ دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات ناکام رہے۔

روس یوکرین فوجی آپریشن جسے جنگ کہنے سے تاحال گریز کیا جارہا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق اس لڑائی میں روس نے 70فیصد ٹھیکے پر آئے ہوئے اور 30 فیصد زبردستی بھرتی کیے ہوئے فوجیوں کو یوکرین بھیجا ہوا ہے جن کی عمریں 18 سے 27 سال کے درمیان ہیں۔

ایک طرف تو روس یوکرین جنگ سے عالمی محاذ پر پیٹرولیم اور گندم سمیت دیگر اجناس کے فقدان کا بحران جنم لے رہا ہے جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک روس کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کیلئے بھی سرگرم ہیں۔

یورپی یونین نے 2030 تک روس کے ایندھن پر اپنا انحصار ختم کرنے کا اعلان کررکھا ہے اور اس فیصلے پر عملدرآمد کی ابتدا گیس سے کی جائے گی۔ تاحال یورپی یونین صرف روسی کوئلے اور تیل پر ہی پابندی عائد کرنے میں کامیاب رہی، گیس یا اٹامک انرجی پر نہیں۔

غور کیجئے تو ایک طرف روس اکیلا ہے یا اس کے کچھ گنے چنے حمایت کرنے والے ممالک جن میں سرِ فہرست چین کو سمجھا جاسکتا ہے تو دوسری جانب امریکا، نیٹو اور یورپی یونین ممالک کی ایک فوج ظفر موج ہے جس کا روس کو تنِ تنہا سامنا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اور روس بھی بین الاقوامی سطح پر گندم اور اجناس کے بحران پر قابو پانے کیلئے آہستہ آہستہ جنگی صورتحال اور فوجی آپریشن سے کنارہ کشی کی راہ اختیار کریں جس کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنانا سب سے مناسب راستہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ جنگ کسی بھی قوم کے مفاد میں نہیں۔

Related Posts