منشیات کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے بلا خوف و خطر منشیات کا دھندا جاری رکھنے کی بات کر رہی ہے۔
لیک ہونے والی آڈیو میں مبینہ طور پر ملزمہ کی آواز پولیس اہلکاروں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ہمت ہو تو گرفتار کرنے کا چیلنج دیتے سنی جا سکتی ہے۔
آڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ کراچی کے بعض علاقوں کو حکومتی رِٹ سے باہر “اندھی گلیاں” بنا دیا گیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے توہین آمیز زبان بھی استعمال کی گئی۔
اس آڈیو کلپ کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے اور منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف جاری کارروائیوں کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت نے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کے دوران ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو 14 روز کے اندر چالان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کو کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا، جہاں سے ڈیڑھ ملین روپے سے زائد مالیت کی چرس، دیگر منشیات اور اسلحہ بمعہ گولیاں برآمد کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ ملک کے مختلف حصوں میں منشیات سپلائی کرنے والے منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔
تفتیشی اداروں کے مطابق اس نیٹ ورک میں متعدد ساتھی شامل تھے اور کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کے لیے رمزی نام استعمال کیے جاتے تھے، جبکہ اس کے وسیع تر روابط اور مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








