سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف۔۔۔ علامہ اقبال کی 88ویں برسی آج منائی جارہی ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

علامہ اقبال
(فوٹو: آن لائن)

حکیم الامت اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کو دنیا سے رخصت ہوئے 88 برس بیت چکے ہیں، اور آج ان کی برسی ملک بھر میں عقیدت، احترام اور ملی جوش کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں میں تقاریب، سیمینارز اور خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا گیا ہے جہاں ان کی فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال کی فکر، فلسفہ اور شاعری نے بیسویں صدی میں برصغیر کے مسلمانوں کے ذہن و شعور کو نئی سمت دی۔ ان کے پیغام نے محکومی کی فضا میں جکڑی قوم کے اندر آزادی کی خواہش کو مہمیز دی اور خودی، حریت اور بیداری کے تصورات کو عام کیا جس نے مسلمانوں کے فکروعمل میں نئی روح پھونک دی۔

علامہ اقبال کے کلام میں صرف فلسفیانہ گہرائی ہی نہیں بلکہ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول ﷺ جیسا جذبہ بھی نمایاں تھا۔ یہی ولولہ ان کے اشعار میں جھلکتا ہے جس نے غلامی کے زیر اثر سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا اور آزادی کی تڑپ پیدا کی:

یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادئ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے

پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے

اس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو

وہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے

مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا

تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!

پنجاب کے قدیم شہر سیالکوٹ میں 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہونے والے علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ بعد ازاں مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کی علمی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا۔

فلسفے میں ایم اے نے ان کی فکر میں نئی جہتیں پیدا کیں۔ مزید تعلیم کے لیے وہ برطانیہ گئے جہاں قانون کی ڈگری حاصل کی، جبکہ جرمنی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ یورپ میں قیام نے ان کی فکری وسعت میں اضافہ کیا اور انہوں نے مشرق و مغرب کے فلسفے کو یکجا انداز میں سمجھا۔

شمس العلماء مولوی میر حسن اور سر تھامس آرنلڈ جیسے اساتذہ نے علامہ اقبال کی علمی اور روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1922ء میں برطانوی حکومت نے انہیں “سر” کے خطاب سے نوازا۔

آزادی کی تڑپ رکھنے والے علامہ اقبال نے شاعری میں منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کے کلام کی مقدار اور معیار دونوں ہی غیر معمولی تھے اور انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئے فکری انداز سے روشناس کرایا، جو آج بھی اردو ادب میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

شاعرِ مشرق نے مسلمانانِ برصغیر کو انگریزوں سے آزادی کے بعد ایک علیحدہ مملکت کا تصور دیا، جس کی بنیاد پر انہیں مصورِ پاکستان کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں پاکستان کا قومی شاعر بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کی فکر قیامِ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں میں شامل ہے۔

تاہم علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء کو قیامِ پاکستان سے قبل ہی انتقال کر گئے اور انہیں لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اردو اور فارسی دونوں زبانوں کو برتا اور دونوں میں بلند پایہ تخلیقات پیش کیں۔

حکیم الامت علامہ اقبال کی معروف تصانیف میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔ فارسی شاعری کے مجموعے بھی اہلِ علم کے لیے قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں اور آج بھی ان کے افکار نئی نسل کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

Related Posts