قومی اسمبلی میں بھی اب مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوگا، اسمبلی میں باقاعدہ اے آئی کی لانچنگ کر دی گئی۔
قومی اسمبلی میں بھی اب مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوگا۔ اے آئی کو ایوان میں لانچ کر دیا گیا۔ لانچنگ تقریب سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خطاب کیا۔
ایاز صادق نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اب وقت کی ضرورت ہے اور اس سے معاشرے میں بہتری آ رہی ہے۔ پہلے ہر چیز فائل پر آتی تھی، جس سے تاخیر ہوتی تھی، مگر اب تاخیر کا کام ختم ہوتا جا رہا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے انکشاف کیا کہ ممبران قومی اسمبلی کو آئی پیڈز دیے گئے، مگر وہ استعمال پر ہچکچا رہے تھے۔ ہم اب تک لاتعداد کاغذ استعمال کر چکے جو سب آخر میں ردی کی نذر ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ دستاویزات بھاری بھرکم ہوتے ہیں، اسے بھی کوشش کرینگے کہ پیپر لیس کریں۔ اب ہمیں ایوان میں ٹیکنالوجی سے گزارا نہیں کرنا بلکہ اس کے ذریعے بہتر کام کرنا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ ہم دو سال سے ایک ڈیٹا سینٹر بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ آئی ٹی منسٹری کی معاونت لائق تحسین ہے۔ اسمبلی میں 43 افراد آئی ٹی ایکسپرٹ ہیں۔ اے آئی کے لیے بجٹ مختص کیا جا رہا ہے، جولائی سے اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے۔
دریں اثنا متعلقہ حکام کےمطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی اس پارلیمانی نظام کا مقصد قانون سازی اور پارلیمانی امور کو ڈیجیٹل، تیز،مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے بلوں کا خلاصہ تیار کرنے، پارلیمانی سوالات ڈرافٹ کرنے، اسمارٹ ڈاکومنٹ سرچ، اسپیچ اسسٹنٹ اور اسمارٹ میٹنگ مینجمنٹ جیسی سہولیات دستیاب ہوں گی۔
نئے نظام میں گفتگو کرنے والی مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ سہولت بھی شامل کی گئی ہے، جبکہ قانونی دفعات، آرٹیکلز، قوانین اورحوالہ جات کو خودکار طریقے سے تلاش کرنے کا فیچر بھی فراہم کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت پارلیمانی افسران بلوں کا جائزہ منٹوں میں لے سکیں گے جبکہ اردو اور انگریزی میں اے آئی لیجسلیٹو سمریز بھی دستیاب ہوں گی۔
طویل پارلیمانی دستاویزات کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کرنےکی سہولت سے قانون سازی کےعمل میں تیزی اور شفافیت آئے گی، جبکہ اسمارٹ میٹنگ مینجمنٹ کے ذریعے پارلیمانی کارروائی مزید مؤثر بنائی جا سکے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








