افغانستان کی جانب سے فلسطین کے محصور عوام، خصوصاً غزہ کے متاثرہ شہریوں کے لیے انسانی امدادی اقدام کے تحت 530 ٹن ضروری اشیائے خورونوش اور دیگر سامان مصر کے راستے رفح بارڈر کے ذریعے غزہ پہنچا دیا گیا۔
یہ امداد ایک ایسے وقت میں فراہم کی گئی ہے جب غزہ شدید انسانی بحران، خوراک کی قلت اور بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ امدادی سامان افغانستان کے وزیر اعظم کی ہدایت پر فراہم کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی وفد مصر عرب جمہوریہ بھیجا گیا، جس نے وہاں پر ضروری اشیا کی خریداری اور ان کی ترسیل کے انتظامات مکمل کیے۔ بعد ازاں یہ امداد رفح بارڈر کے ذریعے غزہ منتقل کی گئی، جو اس وقت امدادی سامان کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ امداد 42 ٹرکوں پر مشتمل ہے، جس میں مجموعی طور پر 530 ٹن سامان شامل ہے۔ اس امداد کی مالیت تقریباً 500,000 امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ امدادی سامان میں بنیادی طور پر خوراکی اشیا، ملبوسات اور دیگر ضروری استعمال کی چیزیں شامل ہیں، جو غزہ کے متاثرہ عوام کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی گئی ہیں۔
متعلقہ حکام کے مطابق اس امدادی کھیپ کو غزہ میں تقریباً 22,000 متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس اقدام کو افغانستان کی حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ یک جہتی اور انسانی ہم دردی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دریں اثنا افغانستان کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری اور خطے کے بااثر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں تعمیری اقدامات کریں۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ صورت حال انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر فوری توجہ درکار ہے۔
مزید برآں افغانستان نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل تاریخی حقائق اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








