کاروباری ہفتے کا پریشان کن آغاز! خام تیل کی قیمتوں میں دھماکہ خیز اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عالمی تیل کی منڈیوں نے ہفتے کا آغاز غیر یقینی صورتحال کے ساتھ کیا جہاں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا یہ تیزی اس وقت سامنے آئی جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والی مختصر جنگ بندی ختم ہوئی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں 6.11 ڈالر یعنی 6.76 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 96.49 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 6.53 ڈالر یا 7.79 فیصد بڑھ کر 90.38 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

یہ اضافہ دراصل جمعہ کو ہونے والی تقریباً 9 فیصد کمی کو ختم کرنے کے مترادف تھا جو اس امید پر آئی تھی کہ کشیدگی میں مستقل کمی واقع ہوگی لیکن وہ امید جلد ہی غلط ثابت ہوئی۔

خلیجی خطے میں کشیدگی

حالیہ تنازعات ایک ایسے ہفتے کے بعد سامنے آئے جس میں سمندری جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ایرانی مال بردار جہاز کو قبضے میں لیا جو مبینہ طور پر اس کی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے جواب میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور جہازوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔

بڑھتی کشیدگی کا ردعمل:

آبنائے ہرمز: ایران نے اس اہم سمندری راستے پر دوبارہ پابندی عائد کر دی جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔

سفارتی تعطل: تہران نے اعلان کیا کہ وہ امن مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت نہیں کرے گا حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید فضائی حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

پابندیوں کی صورتحال: امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر سخت پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر یقینی ہے اور تنازع کے جاری رہنے کے باعث اس کا کھلنا اور بند ہونا بدلتا رہتا ہے۔

جمعہ کو مارکیٹ میں آنے والی بڑی گراوٹ کی ایک وجہ یہ خبریں تھیں کہ ایران نے تمام تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے اور صدر ٹرمپ کے اس بیان نے بھی اثر ڈالا کہ تہران نے مستقل طور پر راستہ کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ کے روز مختصر وقت کے لیے سرگرمی بڑھی جس دوران 20 سے زائد جہازجن میں تیل، ایل پی جی اور کھاد شامل تھی اس راستے سے گزرے جو یکم مارچ کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی۔

طویل مدتی اثرات

مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام توانائی کی قیمتوں پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق رسد کے نظام میں رکاوٹیں اب مستقل نوعیت اختیار کر رہی ہیں اور اندازہ ہے کہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 2027 تک 3 ڈالر فی گیلن سے اوپر رہ سکتی ہے۔

Related Posts