پولیس اہلکار کیخلاف جنسی زیادتی کیس میں نیا موڑ، ڈی این اے لڑکی کے حقیقی چچا سے مل گیا، ہوشربا تفصیلات

مقبول خبریں

کالمز

dr jamil
چین کی تاریخ: عروج و زوال اور عالمی سیاست میں مقام
dr jamil
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت: کیا یہ اسلامک نیٹو ہے؟
dr jamil
ایران امریکا تنازعہ :  ایک خطرناک مرحلہ

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا اس کا چچا، فوٹو پاکستان

پنجاب میں 17سالہ لڑکی سے زیادتی اور خودکشی کی کوشش کا کیس نیا موڑ اختیار کرگیا، ڈی این اے  لڑکی کے حقیقی چچا سے میچ کرنے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خان اور ایس پی انویسٹی گیش محمد ضیاء الحق نے پریس کانفرنس میں تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب  مریم نواز نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا، چیئر پرسن پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے بھی جناح ہسپتال لاہور کا وزٹ کیا اور متاثرہ لڑکی کی تیمارداری کی تھی۔

پولیس کے مطابق سال 2022میں گنڈاسنگھ کے نواحی گاؤں بگے کے رہائشی جاوید اقبال نے اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ  اسی گاؤں کے رہائشی ملزم پولیس کانسٹیبل محمد رفیق کے خلاف درج کروایا تھا۔ تھانہ گنڈاسنگھ والا پولیس نے ملزم رفیق کو گنہگار قرار دیکر نوکری سے برخاست کردیا تھا، لڑکی نے ایک نومولود بچے کو جنم دیا جو بعدازاں چلڈرن ہسپتال لاہور میں جاں بحق ہو گیا۔

پولیس نے بچے کی ڈیڈ باڈی ڈی این اے کیلئے پنجاب فرانزک لیبارٹری لاہور پہنچائی اور ڈیڈ باڈی سے سیمپل حاصل کیے گئے۔  فرانزک لیب سے رپورٹ موصول ہونے پر نومولود بچے کو ڈی این اے ملزم رفیق کے ساتھ میچ نہیں ہو سکا، بعدازاں ایڈیشنل سیشن جج  قصور نے ملزم رفیق کو 5 دسمبر کو مقدمہ میں بری کر دیا۔

 عدالت میں پیشی کے بعد مدعی مقدمہ جاوید اقبال اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس گاؤں جار ہا تھا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قریب لڑکی نے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کے بجائے خودسوزی کی کوشش کی جو جناح ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے۔

ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر نے ملزم رفیق کا ڈی این اے میچ نہ ہونے پر ضلعی پولیس کو ایک لیٹر تحریر کیا کہ تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے کسی سینئر آفیسر کو تفتیش پر مامور کیا جائے، تاکہ مرکزی ملزم کی نشاندہی کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔

ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کی ہدایت پر ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں ڈی ایس پی سٹی سیف اللہ بھٹی پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی۔ تفتیشی ٹیم نے تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع کیا اور اسی گاؤں کے پانچ مشکوک افراد کے ڈی این اے کیلئے فرانزک لیب لاہور لے جایا گیا۔

بعدازاں فرانزک لیب سے رپورٹ موصول ہونے پر ڈی این اے متاثرہ خاتون کے حقیقی چچا زاہد کے ساتھ میچ کر گیا۔ تھانہ گنڈاسنگھ والا پولیس نے ملزم زاہد کوگرفتار کرلیا ہے، مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

Related Posts