اُردو کے مایہ ناز ادیب سعادت حسن منٹو کا 110واں یومِ پیدائش

اُردو کے مایہ ناز ادیب سعادت حسن منٹو کا 110واں یومِ پیدائش

اُردو زبان کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے مداح پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ان کا 110واں یومِ پیدائش منا رہے ہیں جبکہ 43 سال کی عمر میں داعئ اجل کو لبیک کہنے والے  سعادت حسن منٹو نے دنیائے ادب پر گہری چھاپ چھوڑ دی۔

تفصیلات کے مطابق تقریباً 67 سال قبل دارِ فانی کو الوداع کہنے والے سعادت حسن منٹو کی ادبی تخلیقات آج بھی دنیائے فن کے مایہ ناز اذہان کو دعوتِ فکر دیتی ہیں جبکہ ان کے مضامین، افسانوں اور خاکوں کی اہمیت آج بھی تسلیم کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شہزاد رائے کا نیا گانا شائقین میں مقبول 

معروف افسانہ نگار اورادیب سعادت حسن منٹو کے ہاں جدید افسانے کا وہ منفرد اور بے باک اسلوب پایا جاتا ہے جو ان کے بعد آنے والے کسی بھی ادیب کو نصیب نہ ہوا جبکہ 11 مئی 1912ء کو بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں جنم لینے والے سعادت حسن منٹو اپنی موت کے باوجود آج تک زندہ ہیں۔

ادبی تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سعادت حسن منٹو اپنے ہم عصر ادیبوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ دیگر ادیبوں کے برعکس ان کی شخصیت وقت کے لمحہ لمحہ بدلتے ہوئے طرزِ عمل کو اپنا کر فیشن کے ساتھ چلنے کا ہنر جانتی تھی تاہم پاکستان آمد کے بعد ان کی زندگی غربت اور کسمپرسی میں گزری۔

یہاں آنے کے بعد سعادت حسن منٹو اپنے جانثار دوستوں سے محروم ہوگئے اور مفاد پرست عناصر نے انہیں گھیر لیا جس کے باعث محرومی، بدحالی اور کسمپرسی نے صرف 43 سال کی عمر میں ان کی جان لے لی اور وہ اپنی زبردست تخلیقات دنیا میں چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جاملے۔ 

سعادت حسن منٹو نے مجموعی طور پر 3 نسلوں کو اپنے فن سے متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ منٹو اب ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی مایہ ناز تخلیقات سے موجودہ نسل بھی اتنی ہی دلچسپی سے فیضیاب ہو رہی ہے جس قدر بیسویں صدی عیسوی میں ان کی تخلیقات زباں زدِ عام ہوا کرتی تھیں۔ 

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں